
علامتی تصویر
اترپردیش کی اقتصادی راجدھانی کانپور میں غیر قانونی طریقے سے کڈنی ٹرانسپلانٹ کا سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت منظرعام پر آیا جب یہاں کے ایک اسپتال میں اتراکھنڈ کے نوجوان سے تقریباً 10 لاکھ روپے میں کڈنی خریدنے کا سودا کیا گیا۔ کڈنی نکالنے کے بعد دلال نے اسے ایک ضرورت مند مریض کو 90 لاکھ روپے سے زیادہ میں فروخت کر دیا۔ غیر قانونی طریقے سے کی گئی اس خریدوفروخت کا سراغ لگنے پر پیر کے روز پولیس اور محکمہ صحت کی ٹیموں نے اسپتالوں پر چھاپے ماری کی۔ اس دوران پولیس نے 10 ملزمین کو حراست میں لیا جن میں دلال، اسپتال آپریٹر اور ایک ڈاکٹر میاں بیوی شامل ہیں۔
Published: undefined
اس سلسلے میں ’امراجالا‘ کی خبر کے مطابق کانپور کے کڈنی ریکیٹ کا پردہ فاش ہونے کے بعد کرائم برانچ اور پولیس ٹیموں نے اس کی جڑوں تک پہنچنے کی کوشش کے تحت جانچ شروع کردی ہے۔ ٹیم نے ملزم شیوم کو حراست میں لے کر کئی گھنٹے تک پوچھ گچھ کی۔ اس نے پولیس کو بتایا کہ کڈنی کا غیرقانونی دھندہ کیسے چلتا ہے۔ ملزم نے بتایا کہ شک سے بچنے کے لیے کڈنی خریدنے والے کو رشتہ دار بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اسے غریب اور خاندان کا واحد سہارا بتاکر کم سے کم قیمت پر سودا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
Published: undefined
اس کے بعد ضرورت مند کے خاندان کو اس کی بگڑتی صحت کا حوالہ دے کر جلد از جلد کڈنی کا بندوبست کرنے کے لیے کہا جاتا ہے۔ بعد میں اسے ایک ڈونر کے سلسلے میں بتاکراس کی خرچ کرنے کی حیثیت کا اندزہ لگایا جاتا ہے۔ ضرورت مند کے رشتہ داروں کے تیار ہونے پراسے کئی گنا منافع لے کر بیچ دیا جاتا ہے۔ پولیس اب ان اسپتالوں کے بارے میں معلومات اکٹھی کر رہی ہے جہاں ٹرانسپلانٹ کیا گیا یا اس کے بعد مریض اور ڈونر کو بھرتی کرکے ان کا علاج کیا گیا۔ پولس کی پوچھ گچھ میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ان اسپتالوں میں مریض کو گال بلیڈر، پتھری یا آنتوں کا مریض بتاکر بھرتی کیا جاتا تھا جہاں ڈونر کو جلد چھٹی دے دی جاتی۔ کڈنی لینے والے مریض کو کئی ماہ تک بھرتی رکھا جاتا اور ہراسپتال میں اس کے بارے میں نئی بیماری بتائی جاتی ہے۔
Published: undefined
ملزم سے پتا چلا ہے کہ ریکیٹ میں ٹرانسپلانٹ معاملے سے وابستہ رہے کئی ڈاکٹراور نرسنگ ہوم کے نام شامل ہیں۔ پولیس کی ٹیمیں ان اسپتالوں اور ڈاکٹروں سے پوچھ گچھ کر کے سچائی کا پتا لگانے کے لیے جانچ کر رہی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ پولیس ٹیموں نے مغربی بنگال اور ہریانہ کا بھی دورہ کیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ وہاں کے نوجوانوں سے بھی کڈنی کی خرید وفروخت ہوئی ہے۔ پولیس کمشنر رگھوبیر لال نے بتایا کہ گردے کی پیوند کاری کے معاملے میں سامنے آنے والے تمام ناموں کے کردار کی جانچ کی جا رہی ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined