قومی خبریں

راہل گاندھی کو حراست میں لیے جانے پر کھڑگے برہم، کہا- ’عوام ہر کارروائی کا حساب لے گی‘

راہل گاندھی سمیت اپوزیشن رہنماؤں کی حراست پر کانگریس نے حکومت کو نشانہ بنایا۔ کھڑگے نے اسے آئین و جمہوری حقوق پر سوال قرار دیا، جبکہ راہل کے چینل نے کہا- ’حساب ہوگا، ایک بھی غدار نہیں بخشا جائے گا‘

<div class="paragraphs"><p>راہل گاندھی کو حراست میں لیتی پولیس</p></div>

راہل گاندھی کو حراست میں لیتی پولیس

 

الیکشن کمیشن سے ملاقات کے مطالبے پر آکاشوانی بھون میں دھرنے کے دوران لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی، پرینکا گاندھی اور کانگریس کے دیگر رہنماؤں کو حراست میں لیے جانے کے بعد کانگریس نے حکومت اور دہلی پولیس پر سخت حملہ کیا ہے۔ تقریباً 8 گھنٹے تک جاری رہنے والے دھرنے کے بعد پولیس نے راہل گاندھی سمیت کئی رہنماؤں کو حراست میں لے کر وہاں سے منتقل کر دیا۔

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے راہل گاندھی کی حراست پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ راہل گاندھی پرامن طریقے سے دھرنے پر بیٹھ کر الیکشن کمیشن سے ملاقات کا مطالبہ کر رہے تھے اور پرامن احتجاج درج کرانا ان کا آئینی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود قائد حزب اختلاف کو زبردستی حراست میں لیا جانا آئین اور جمہوری حقوق پر سنگین سوال کھڑے کرتا ہے۔

کھڑگے نے کہا کہ دہلی پولیس مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے کنٹرول میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ کے رویے میں ’کافی گھبراہٹ‘ دکھائی دے رہی ہے۔ کھڑگے نے کہا کہ جمہوریت میں آخری طاقت عوام کے پاس ہوتی ہے اور عوام ہر کارروائی کا حساب لیتی ہے۔

اس سے قبل کھڑگے نے کہا تھا کہ راہل گاندھی اپوزیشن ارکان کے ساتھ اس لیے دھرنے پر بیٹھے ہیں کیونکہ انہیں الیکشن کمیشن سے ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی۔ انہوں نے انتخابی عمل سے متعلق اپوزیشن کے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ووٹ چوری‘ ملک سے غداری ہے اور ذمہ داروں کو سزا دلانے تک جدوجہد جاری رہے گی۔

راہل گاندھی کے واٹس ایپ چینل پر بھی حراست کے بعد ایک سخت پیغام جاری کیا گیا۔ اس میں کہا گیا، ’’ووٹ چوروں، آکاشوانی سنو- ملک سے غداری کی سزا تو مل کر رہے گی۔‘‘ ایک اور پیغام میں کہا گیا کہ ’’جمہوریت کے غداروں کو بچانے کے لیے بچے کھچے جمہوریت کو گھسیٹا گیا ہے اور حساب ہوگا، ایک بھی غدار بخشا نہیں جائے گا۔‘‘

کانگریس کے تنظیمی امور کے ذمہ دار کے سی وینوگوپال نے بھی ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا انہیں حراست میں لینے سے ان کی آواز خاموش ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس گاندھی کی پارٹی ہے اور ان کا ستیہ گرہ کبھی ناکام نہیں ہوگا۔ وینوگوپال نے اس سے قبل کہا تھا کہ مطالبات پورے ہونے تک وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ جے رام رمیش نے راہل گاندھی کو پرامن دھرنے سے ہٹائے جانے پر حکومت کو نشانہ بنایا اور کہا کہ قائد حزب اختلاف کا مطالبہ صرف الیکشن کمیشن سے ملاقات کرنا تھا۔ کانگریس نے الزام لگایا کہ آکاشوانی بھون میں پولیس بھیج کر راہل گاندھی اور دیگر ارکان پارلیمنٹ کو زبردستی ہٹوایا گیا۔

اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹایا جائے اور ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کو منسوخ کیا جائے۔ کانگریس کے مطابق راہل گاندھی سمیت حراست میں لیے گئے اپوزیشن رہنماؤں کو کنگز وے کیمپ لے جایا گیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔