قومی خبریں

جے پی ایس سی گھوٹالہ: سی آئی ڈی نے 5 کلیدی ملزمان کے خلاف داخل کی پہلی چارج شیٹ

سی آئی ڈی نے ملزمان کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعات کے ساتھ ساتھ ’جھارکھنڈ مسابقتی امتحانات ایکٹ، 2023‘ کی سخت دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>جے پی ایس سی، تصویر/آئی اے این ایس</p></div>

جے پی ایس سی، تصویر/آئی اے این ایس

 

جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن (جے پی ایس سی) کے امتحانات میں او ایم آر شیٹ میں ہیر پھیر، خفیہ ڈیٹا کی چوری اور میرٹ کی سودے بازی سے جڑے مشہور گھوٹالے میں کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) نے قانونی شکنجہ کس دیا ہے۔ سی آئی ڈی نے 90 دنوں کی قانونی مدت ختم ہونے سے عین قبل رانچی کی عدالت میں بدھ (21 اکتوبر) کی شام 5 کلیدی ملزمان کے خلاف چارج شیٹ داخل کر دی ہے۔

جانچ ایجنسی کی اس بروقت کارروائی کی وجہ سے اب گرفتار ملزمان کی ’ڈیفالٹ ضمانت‘ پانے کا راستہ مکمل طور سے بند ہو گیا ہے۔ ساتھ ہی سی آئی ڈی اس معاملے میں باقی ملزمان اور فائدہ اٹھانے والے امیدواروں کے خلاف جلد ہی دوسری سپلیمنٹ چارج شیٹ داخل کرنے کی تیاری میں ہے۔ پہلی چارج شیٹ میں جن 5 کلیدی ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے، ان میں اس وقت کی ڈپٹی کنٹرولر آف ایگزامینیشن شویتا کماری گپتا، ٹی ڈی پی ایل ایجنسی کے ڈائریکٹر اور اس پورے گھوٹالے کے ماسٹر مائنڈ رام ویر سنگھ عرف آر وی سنگھ، مارکیٹنگ مینیجر اور کنگ پِن ابھے کمار تیواری عرف منوج کمار تیواری اور ایجنسی کے ملازمین محمد عثمان اور محمد عباد بھی شامل ہیں۔

سی آئی ڈی کے ذریعہ عدالت کو سونپی گئی کیس ڈائری اور تحقیقاتی رپورٹ نے کمیشن کی رازداری اور پورے امتحانی نظام کو تار تار کرنے والے ایک منظم ’میرٹ سنڈیکیٹ‘ کا پردہ فاش کیا ہے۔ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ نااہل امیدواروں کو کامیابی کی ضمانت دینے کے لیے باقاعدہ ایک ’ریٹ کارڈ‘ طے کیا گیا تھا۔ ابتدائی امتحان پاس کرانے کے لیے 5 لاکھ روپے، مین امتحان اور انٹرویو میں نمبر بڑھانے کے لیے 10 سے 15 لاکھ روپے اور حتمی انتخاب کے لیے 60 سے 70 لاکھ روپے تک کی خطیر رقم وصولی جا رہی تھی۔

امیدواروں سے ضمانت کے طور پر ان کی اصل تعلیمی دستاویزات، خالی چیک اور سادہ کاغذات زبردستی لے لیے جاتے تھے۔ فارینسک سائنس لیبارٹری کی رپورٹ اور ضبط کیے گئے ڈیجیٹل آلات کی جانچ سے یہ ثابت ہوا ہے کہ او ایم آر شیٹس جان بوجھ کر خالی چھوڑی جاتی تھیں، جنہیں بعد میں اسکیننگ کے ذریعے اور بیک اینڈ سرور میں براہ راست رد و بدل کر کے پر کیا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ خفیہ آنسر-کی کو آفیشیل طور پر جاری ہونے سے قبل ہی واٹس ایپ کے ذریعے لیک کر دیا گیا، جس کے عوض میں اس وقت کے نائب کنٹرولر امتحانات اور ان کے اہل خانہ کے لیے دہلی اور بنگلورو کے ہوائی ٹکٹ بک کرائے گئے تھے۔

قابل ذکر ہے کہ سی آئی ڈی نے ملزمان کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعات کے ساتھ ساتھ ’جھارکھنڈ مسابقتی امتحانات ایکٹ، 2023‘ کی سخت دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ اس معاملے میں پہلی باضابطہ سماعت کے لیے عدالت نے 26 اکتوبر 2026 کی تاریخ مقرر کی ہے، جبکہ سی آئی ڈی کی جانب سے اس معاملے میں ملوث دیگر افراد کو بے نقاب کرنے کے لیے تحقیقات کا دائرہ مسلسل بڑھایا جا رہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔