
جیتو پٹواری، تصویر قومی آواز/ویپن
بھوپال: مدھیہ پردیش میں بڑے پیمانے پر انتظامی تبادلوں کے بعد کانگریس کے ریاستی صدر جیتو پٹواری نے روہت سسونیہ کو رائے سین کا کلکٹر مقرر کرنے پر سوال اٹھایا ہے۔ پٹواری کے مطابق سسونیہ کو اندور کے بھگیرتھ پورہ میں آلودہ پانی کے سبب 36 افراد کی موت کے بعد عہدے سے ہٹایا گیا تھا، لیکن اب انہیں ضلعی کلکٹر کی ذمہ داری دے دی گئی ہے۔
ریاستی حکومت نے منگل کی دیر شب 23 آئی اے ایس افسران کے تبادلوں کے احکامات جاری کیے، جن میں 11 اضلاع کے کلکٹر بھی شامل ہیں۔ اس انتظامی ردوبدل میں وزیر اعلیٰ کے دفتر میں بھی نئی تقرریاں کی گئی ہیں۔
پٹواری نے کہا کہ بھگیرتھ پورہ میں آلودہ پانی سے ہونے والی اموات ایک سنگین واقعہ تھا اور متاثرہ خاندان آج بھی انصاف اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کے منتظر ہیں۔ انہوں نے ریاستی حکومت سے پوچھا کہ تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ پر اب تک کیا کارروائی ہوئی ہے اور سسونیہ کو کلکٹر مقرر کرنے سے پہلے کن حقائق کو پیش نظر رکھا گیا۔
کانگریس صدر نے تبادلوں کے عمل کی شفافیت پر بھی اعتراض کیا۔ ان کا الزام ہے کہ ریاست میں تبادلوں کا نظام ’’ٹرانسفر فیکٹری‘‘ بن چکا ہے، جہاں اہم عہدوں پر تقرریوں میں جواب دہی کے بجائے سفارش یا جوڑ توڑ کو ترجیح ملتی ہے۔ انہوں نے بدعنوانی اور کمیشن سے متعلق الزامات کا بھی ذکر کیا، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق فراہم نہیں کی۔
پٹواری نے وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ بھگیرتھ پورہ کے متاثرین کو انصاف دیا جائے، تحقیقاتی رپورٹ عام کی جائے اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ رپورٹ اور کارروائی کی تفصیلات سامنے آنے سے متاثرہ خاندانوں اور عوام کے سوالات کا جواب مل سکتا ہے۔
تبادلوں کے تحت رشمی ارون شمی کو ایڈیشنل چیف سیکریٹری، محکمہ صحت مقرر کیا گیا ہے، جبکہ سکھبیر سنگھ کو وزیر اعلیٰ کا پرنسپل سیکریٹری بنایا گیا ہے۔ بھارت یادو کو محکمہ تعلقاتِ عامہ کا سیکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔