
جھارکھنڈ ہائی کورٹ / آئی اے این ایس
رانچی: جھارکھنڈ حکومت نے ہائی کورٹ میں کہا ہے کہ ریاست میں جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن (جے پی ایس سی) کے سول سروس امتحان، چائلڈ ڈیولپمنٹ پروجیکٹ آفیسر (سی ڈی پی او) اور فوڈ سیفٹی آفیسر کی بھرتیوں میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں سامنے آنے کے بعد تقرریاں منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ حکومت نے عدالت کو بتایا کہ جانچ کے دوران امتحانات کی شفافیت متاثر ہونے کے اشارے ملے ہیں اور کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کی دستاویزات سے بھی بے ضابطگیوں کی تصدیق ہوتی ہے۔
جسٹس دیپک روشن کی عدالت میں جمعہ کو ان بھرتیوں کو منسوخ کرنے کے ریاستی حکومت کے فیصلے کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ اس دوران حکومت اور درخواست گزاروں کے وکلا نے اپنے اپنے دلائل پیش کیے۔ عدالت نے معاملے کی اگلی سماعت پیر کو دوپہر 2 بج کر 15 منٹ پر مقرر کی ہے۔
حکومت کی جانب سے عدالت میں دلیل دی گئی کہ جانچ کے دوران بڑے پیمانے پر گڑبڑیوں کی معلومات سامنے آئی ہیں۔ ایسی صورت حال میں یہ طے کرنا مشکل ہے کہ کامیاب امیدواروں میں کون قصوروار ہے اور کون بے قصور۔ حکومت نے کہا کہ امتحانات میں بے ضابطگیاں پائے جانے کی صورت میں تقرریاں منسوخ کرنے کا اختیار ریاستی حکومت کے پاس ہے۔
دوسری جانب درخواست گزاروں کے وکلا امرتانش وتس اور اندر جیت سنہا نے حکومت کے فیصلے پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے ٹی ڈی پی ایل نامی آؤٹ سورسنگ ایجنسی سے تعلق کی بنیاد پر تینوں بھرتیوں کی تقرریاں منسوخ کی ہیں، جب کہ یہ کمپنی جولائی 2025 میں انتخابی عمل کے آخری مرحلے میں شامل ہوئی تھی۔ اس وقت امیدواروں کے دستاویزات کی تصدیق کا عمل جاری تھا۔
درخواست گزاروں کے وکلا نے عدالت کو بتایا کہ ان تینوں امتحانات کے سلسلے میں اب تک نہ کوئی ایف آئی آر درج ہوئی ہے، نہ کسی امیدوار کو سمن جاری کیا گیا ہے اور نہ ہی کسی کی گرفتاری ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کامیاب امیدواروں کے معاملے میں مالی لین دین کا سراغ بھی سامنے نہیں آیا ہے۔
وکیلوں نے یہ بھی دلیل دی کہ سی آئی ڈی کی جانچ میں ان امتحانات میں بے ضابطگیوں کے ٹھوس شواہد سامنے نہیں آئے۔ ان کے مطابق، صرف ٹی ڈی پی ایل کی ممکنہ شمولیت کی بنیاد پر تقرریاں منسوخ کرنا مناسب نہیں ہے۔ درخواست گزاروں نے الزام لگایا کہ حکومت نے جلد بازی میں فیصلہ کیا۔
درخواست گزاروں کے وکیل امرتانش وتس نے تقرریاں منسوخ کرنے سے متعلق حکومتی نوٹیفکیشن کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امتحان اور اس کے اشتہار کو منسوخ کرنے کا اختیار متعلقہ کمیشن، یعنی جے پی ایس سی یا جھارکھنڈ اسٹاف سلیکشن کمیشن (جے ایس ایس سی) کے پاس ہے۔ ان کے مطابق، ریاستی حکومت تقرری کے احکامات منسوخ کر سکتی ہے، لیکن اس کے لیے آئینی طریقۂ کار پر عمل کرنا ضروری ہے۔
ان درخواستوں میں سول سروس امتحان 2023 (اشتہار نمبر 01/2024)، فوڈ سیفٹی آفیسر بھرتی (اشتہار نمبر 18/2023) اور سی ڈی پی او بھرتی (اشتہار نمبر 21/2023) کو منسوخ کرنے کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے۔ پیر کو ہونے والی اگلی سماعت میں مداخلت کار کی جانب سے دلائل پیش کیے جائیں گے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔