قومی خبریں

جھارکھنڈ میں کم بارش سے زرعی بحران کے آثار، حکومت نے راحتی تیاریوں کا کیا آغاز

جھارکھنڈ میں معمول سے 54 فیصد تک کم بارش کے باعث خشک سالی کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ حکومت نے کسانوں کے لیے متبادل فصلوں کی کاشت، رجسٹریشن مہم اور راحتی منصوبوں پر عمل تیز کر دیا ہے

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل&nbsp;میڈیا</p></div>

تصویر سوشل میڈیا

 

رانچی: جھارکھنڈ میں کمزور مانسون اور ال نینو کے اثرات کے باعث ریاست کے بیشتر علاقوں میں معمول سے کہیں کم بارش ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں خشک سالی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ بارش میں نمایاں کمی نے خریف فصلوں، خصوصاً دھان کی کاشت کو شدید متاثر کیا ہے۔ کئی اضلاع میں دھان کی روپائی مقررہ وقت پر شروع نہیں ہو سکی، جس کے پیش نظر ریاستی حکومت نے کسانوں کے لیے متبادل فصلوں کی کاشت اور راحتی اقدامات کو تیز کر دیا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جون اور جولائی کے ابتدائی دنوں میں ریاست کے مختلف علاقوں میں معمول کے مقابلے میں 42 سے 54 فیصد تک کم بارش ہوئی ہے۔ پلامو ڈویژن کے گڑھوا، پلامو اور چترا اضلاع کے علاوہ ہزاری باغ، گوڈا اور صاحب گنج میں بارش کی مقدار معمول سے تقریباً 60 فیصد کم رہی ہے۔ اسی طرح رانچی، لوہردگا، گملا، لاتیہار، دھنباد، بوکارو، گریڈیہ اور دیوگھر سمیت سولہ اضلاع میں 20 سے 59 فیصد تک بارش کی کمی درج کی گئی ہے۔ صرف سمدیگا، مشرقی سنگھ بھوم اور مغربی سنگھ بھوم ایسے اضلاع ہیں جہاں بارش کی صورتحال معمول کے قریب رہی ہے۔

بارش میں کمی کے باعث جولائی کے وسط تک دھان کی روپائی مطلوبہ رفتار سے نہیں ہو سکی، جس سے کسانوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت نے کم پانی میں تیار ہونے والی فصلوں کی کاشت کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں مڑوا، اڑد، مونگ، ارہر اور سویا بین جیسی فصلوں کی کاشت کے لیے کسانوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ ملیٹ مشن کے تحت پنچایت سطح پر کسانوں کے رجسٹریشن کی مہم بھی شروع کی گئی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ کسان اس منصوبے سے فائدہ اٹھا سکیں۔

ریاستی حکومت نے کسانوں کو جدید زرعی تکنیک اور متبادل کھیتی کے طریقوں سے آگاہ کرنے کے لیے زرعی رتھ روانہ کرنے اور خریف میلوں کے انعقاد کی ہدایات بھی جاری کی ہیں۔ اس کے علاوہ خشک سالی سے ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے علاقوں کے لیے راحتی منصوبوں پر کام تیز کر دیا گیا ہے۔ حکومت نے وزیراعلیٰ خشک سالی راحت منصوبہ اور جھارکھنڈ ریاستی فصل راحت منصوبہ کے تحت متاثرہ کسانوں کو مالی امداد فراہم کرنے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔

قدرتی آفات کی صورت میں بروقت امداد پہنچانے کے مقصد سے کسانوں کا آن لائن رجسٹریشن بھی کرایا جا رہا ہے۔ ریاست کی وزیر زراعت شلپی نہا تِرکی نے کہا ہے کہ حکومت مانسون کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ اگر جولائی کے اختتام تک مناسب بارش نہیں ہوتی تو متاثرہ علاقوں میں راحتی اقدامات کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا تاکہ کسانوں کو ممکنہ نقصانات سے بچایا جا سکے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔