قومی خبریں

بھج انہدامی کارروائی: جمعیۃ علماء ہند کا انتظامیہ سے سخت احتجاج، قانونی چارہ جوئی کے لیے وکلا پینل قائم

گجرات کے ضلع کچھ میں مساجد، درگاہوں، مکانات اور دکانوں کے انہدام پر جمعیۃ علماء ہند کے وفد نے انتظامیہ سے احتجاج کیا، متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور قانونی چارہ جوئی کے لیے وکلا کا پینل تشکیل دے دیا

<div class="paragraphs"><p>تصویر پریس ریلیز</p></div>

تصویر پریس ریلیز

 

گجرات کے ضلع کچھ (بھج) میں مساجد، درگاہوں، مکانات اور تجارتی تعمیرات کے انہدام کے معاملے پر جمعیۃ علماء ہند نے اپنی سرگرمیاں مزید تیز کر دی ہیں۔ جاری کردہ پریس بیان کے مطابق، تنظیم کے ناظم عمومی مولانا محمد حکیم الدین قاسمی کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد نے منگل کو ضلع کلکٹر آفس بھج میں ریزیڈنٹ ایڈیشنل کلکٹر پارتھ کوٹڈیا سے ملاقات کر کے حالیہ انہدامی کارروائیوں پر سخت احتجاج درج کرایا اور مطالبہ کیا کہ آئندہ تمام کارروائیاں سپریم کورٹ کی ہدایات، آئینی تقاضوں اور قدرتی انصاف کے اصولوں کے مطابق انجام دی جائیں۔

Published: undefined

وفد نے انتظامیہ کے سامنے یہ سوال بھی اٹھایا کہ جن علاقوں میں انہدامی کارروائیاں کی گئی ہیں وہ بین الاقوامی سرحد سے کافی فاصلے پر واقع ہیں، اس لیے ان کارروائیوں کی قانونی بنیاد کیا ہے۔ وفد کا مؤقف تھا کہ اگر کوئی علاقہ سرحدی زون میں بھی آتا ہو تو بھی کسی شہری یا مذہبی مقام کے خلاف کارروائی صرف قانون کے مطابق ہی کی جا سکتی ہے اور اس کے لیے متعلقہ قوانین اور عدالتی رہنما اصولوں کی مکمل پابندی ضروری ہے۔

جمعیۃ علماء ہند نے انتظامیہ کے سامنے متعدد مطالبات بھی پیش کیے جن میں نانا ورنورا میں مکانات اور دکانوں کے انہدام کی قانونی بنیاد واضح کرنا، سرپنچ کے جعلی دستخطوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات، نابالغ بچوں سمیت گرفتار افراد کی رہائی، متاثرہ خاندانوں کی بازآبادکاری اور مناسب معاوضے کی فراہمی، مذہبی اور اوقافی املاک سے متعلق کارروائیوں میں آئین اور سپریم کورٹ کی ہدایات پر مکمل عمل درآمد اور آئندہ کسی بھی انہدامی کارروائی سے قبل مناسب نوٹس اور مؤثر سماعت کو یقینی بنانا شامل ہے۔

Published: undefined

ریزیڈنٹ ایڈیشنل کلکٹر پارتھ کوٹڈیا نے وفد کے نکات کو غور سے سننے کے بعد یقین دہانی کرائی کہ تمام معاملات متعلقہ حکام کے سامنے رکھے جائیں گے اور قانون کے مطابق ان کا جائزہ لیا جائے گا۔

جمعیۃ علماء ہند نے اس معاملے میں آئندہ کی قانونی حکمت عملی کو حتمی شکل دینے کے لیے بھج میں سینئر وکلاء کے ساتھ تفصیلی مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیا۔ تنظیم کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی ہدایت پر متاثرین کی قانونی معاونت کے لیے وکلاء کا ایک خصوصی پینل بھی تشکیل دیا گیا ہے، جو دستاویزات، شواہد اور قانونی پہلوؤں کا جائزہ لے کر عدالت سے رجوع کرے گا۔

انتظامیہ سے ملاقات سے قبل وفد نے ضلع کچھ کے متاثرہ علاقوں نانا ورنورا، دنارا، کھاوڑا اور توگا کا دورہ کیا، جہاں متاثرہ خاندانوں، مقامی علماء اور سماجی ذمہ داران سے ملاقات کرکے زمینی صورتحال کا جائزہ لیا۔ وفد نے منہدم شدہ مکانات اور دکانوں کا معائنہ بھی کیا۔ مقامی افراد کے مطابق حالیہ کارروائی میں 17 مکانات اور 21 دکانیں منہدم کی گئیں جبکہ احتجاج کے بعد 25 افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں چھ نابالغ بھی شامل ہیں۔

Published: undefined

وفد نے متعلقہ سرکاری دستاویزات کا جائزہ لیا جبکہ مقامی سرپنچ عبداللطیف کیور کے اس الزام کو بھی نوٹ کیا کہ بعض نوٹسوں پر ان کے جعلی دستخط کیے گئے، جس پر آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔

وفد کو دنارا، کھاوڑا اور توگا میں یہ بھی بتایا گیا کہ توگا کی مسجد کو مختصر مہلت کے بعد منہدم کر دیا گیا جبکہ اس سے قبل آدی پور (کنڈلا) کی ایک مسجد بھی انہدامی کارروائی کا نشانہ بن چکی ہے۔ وفد نے متاثرین کو یقین دلایا کہ جمعیۃ علماء ہند انہیں تنہا نہیں چھوڑے گی اور ان کے آئینی و قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قانونی جدوجہد جاری رکھے گی۔

اس موقع پر مولانا محمد حکیم الدین قاسمی نے کہا کہ ضلع کچھ سے جمعیۃ علماء ہند کا تعلق کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2001 کے تباہ کن زلزلے کے بعد بھی جمعیۃ علماء ہند نے سب سے پہلے امدادی سرگرمیاں شروع کی تھیں، سیکڑوں مکانات تعمیر کیے تھے اور جمعیۃ چلڈرن ولیج جیسے تعلیمی و فلاحی ادارے قائم کیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اسی دیرینہ تعلق اور انسانی ذمہ داری کے تحت تنظیم آج بھی متاثرہ عوام کے آئینی اور قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن جدوجہد جاری رکھے گی۔

Published: undefined

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined