قومی خبریں

جے رام رمیش کا مودی حکومت پر حملہ، کہا- ’منموہن سنگھ الیکشن کمیشن کو جمہوریت کی روح سمجھتے تھے‘

جے رام رمیش نے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نے الیکشن کمیشن کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا، جبکہ منموہن سنگھ اسے جمہوریت کی روح قرار دیتے تھے

<div class="paragraphs"><p>ڈاکٹر منموہن سنگھ، جے رام رمیش، نریندر مودی / اے آئی</p></div>

ڈاکٹر منموہن سنگھ، جے رام رمیش، نریندر مودی / اے آئی

 

نئی دہلی: کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے ایک پرانے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کی خودمختاری کے معاملے پر مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ الیکشن کمیشن کو ہندوستانی جمہوریت کی روح تصور کرتے تھے، جبکہ موجودہ حکومت اس ادارے کو سیاسی بالادستی قائم کرنے کا ذریعہ سمجھتی ہے۔

جے رام رمیش نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی نے اپنی آنے والی کتاب میں ایک واقعے کا ذکر کیا ہے، جس میں ڈاکٹر منموہن سنگھ نے ان سے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن صرف ہندوستان کا فخر نہیں بلکہ ہماری جمہوریت کی روح ہے، اور اگر یہ ادارہ کمزور پڑ گیا تو ملک سب کچھ کھو دے گا۔ رمیش کے مطابق اس بیان نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا کہ منموہن سنگھ قومی اداروں کی آزادی اور آئینی اقدار پر غیر متزلزل یقین رکھتے تھے۔

کانگریس رہنما نے کہا کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کا یہ نقطۂ نظر موجودہ وزیر اعظم کے رویے سے بالکل مختلف تھا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت الیکشن کمیشن کو سیاسی غلبہ قائم رکھنے کے ایک آلے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ منموہن سنگھ کبھی تصور بھی نہیں کر سکتے تھے کہ ایک دن الیکشن کمیشن اس حد تک حکومتی اثر و رسوخ میں آ جائے گا کہ چیف الیکشن کمشنروں پر جانبداری کے الزامات لگیں اور وہ وزیر اعظم کے سیاسی مقاصد کی تکمیل کے لیے بڑے پیمانے پر ووٹروں کو حق رائے دہی سے محروم کرنے جیسے اقدامات کریں۔

جے رام رمیش نے مزید کہا کہ قومی اداروں کو سیاسی تنازعات کا حصہ بنانا نہ تو ڈاکٹر منموہن سنگھ کی فطرت تھی اور نہ ہی ان کے سیاسی نظریے کا حصہ۔ ان کے مطابق سابق وزیر اعظم ہمیشہ اداروں کی خودمختاری، آئین کی بالادستی اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے حامی رہے۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی کی کتاب منظر عام پر آنے سے پہلے ہی اس میں شامل بعض انکشافات پر سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے۔ قریشی نے اپنی کتاب میں 2012 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے دوران پیش آنے والے ایک واقعے کا ذکر کیا ہے، جب انتخابی ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کے معاملے میں اس وقت کے مرکزی وزیر سلمان خورشید کے خلاف کارروائی کے بعد انہوں نے وزیر اعظم منموہن سنگھ سے ملاقات کی تھی۔ اسی ملاقات کے دوران منموہن سنگھ نے الیکشن کمیشن کو ہندوستانی جمہوریت کی روح قرار دیا تھا، جسے قریشی نے اپنی زندگی کے یادگار ترین لمحات میں شامل کیا ہے۔

جے رام رمیش نے اپنی پوسٹ کے اختتام پر کہا کہ تاریخ ڈاکٹر منموہن سنگھ کو ان کی مدبرانہ قیادت، جمہوریت سے وابستگی اور قوم کی تعمیر کے لیے ان کی خدمات کے باعث ہمیشہ احترام کی نگاہ سے دیکھے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔