قومی خبریں

آئی ٹی بی پی ڈائریکٹر جنرل نے اروناچل پردیش کی سرحد پر ہند-چین تصادم کا کیا انکشاف، کانگریس نے بھی دیا رد عمل

کانگریس نے کہا کہ ’’ڈائریکٹر جنرل کے ذریعہ چینی پی ایل اے کے ساتھ آئی ٹی بی پی کی کارکردگی کی ستائش درست ہے، لیکن وزیر اعظم اور ان کا پورا نظام اس سنگین معاملے پر خاموشی اختیار کیے بیٹھا ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>جئے رام رمیش / تصویر: آئی اے این ایس</p></div>

جئے رام رمیش / تصویر: آئی اے این ایس

 

ہندوستان اور چین کے درمیان ’ایل اے سی‘ (لائن آف ایکچوئل کنٹرول) پر کشیدگی والی حالت برقرار ہے۔ اس تعلق سے آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل شتروجیت کپور نے ایک اہم انکشاف کیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ہندوستان اور چین کے درمیان اروناچل پردیش کی سرحد پر کئی بار تصادم ہوا ہے، اور یہ اب بھی جاری ہے۔ اس سے قبل ہندوستان اور چین کے درمیان ڈوکلام میں بھی تصادم ہوا تھا۔

آئی ٹی بی پی ڈائریکٹر جنرل شتروجیت کپور نے ایک تقریب کے دوران یہ انکشاف کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’اروناچل پردیش کے اندر کئی بار ایسے حالات پیدا ہوئے جب تصادم دیکھنے کو ملا۔ وہاں پر ہماری ’شوریہ کمانڈو‘ ٹیمیں ہیں، انھوں نے بہت اچھا کام کیا ہے۔‘‘ وہ آگے کہتے ہیں کہ ’’یہ بھی ایک نئی پیش قدمی تھی۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں آئی ٹی بی پی کی شروعات ایک ماؤنٹین گوریلا فورس کی شکل میں ہوئی تھی۔ اس کے بعد ہم نے روایتی فورس کی شکل میں چینی سرحد کو سنبھالا ہے۔ اب گوریلا جنگ کی ضرورت نہیں ہے، لیکن ہمیں اعلیٰ سطحی فورس کی شکل میں اپنی شناخت قائم کرنی ہے۔‘‘

آئی ٹی بی پی ڈائریکٹر جنرل کا بیان سامنے آنے کے بعد کانگریس نے مرکز کی مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے ایک طویل پوسٹ جاری کر کہا ہے کہ ’’ایک طرف چین کے سامنے گھٹنے ٹیکنے والے وزیر اعظم کی جانب سے مسلسل رعایتیں دینے کا سلسلہ جاری ہے، وہیں آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل نے اروناچل پردیش میں چینی پی ایل اے کے ساتھ ہندوستانی سرحد کے اندر حالیہ تصادموں میں آئی ٹی بی پی کی کارکردگی کی ستائش کی ہے، جو بالکل درست بھی ہے۔ لیکن وزیر اعظم اور ان کا پورا نظام اس سنگین معاملے پر خاموشی اختیار کیے بیٹھا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ تکسنگ میں تصادم کے بعد گزشتہ ماہ اروناچل پردیش کے واچا اور دمائی میں کور کمانڈر سطح کی بات چیت ہوئی۔ مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ لداخ کی طرح ایک بار پھر گشت کے کچھ مقامات ہمارے ہاتھ سے نکل گئے ہیں۔ چین اروناچل پردیش میں ہمارے شہروں کے نام بدلتا جا رہا ہے اور 60,000 میگاواٹ کا ایک ڈیم بنا رہا ہے، جو ہمارے ماحولیاتی نظام اور آبی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔

جئے رام رمیش نے چین سے متعلق ہندوستان کی خارجہ پالیسیوں کو بھی ہدف تنقید بنایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’چین کے ساتھ ہندوستان کا تجارتی خسارہ 26-2025 میں ریکارڈ 112 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال 99 ارب ڈالر تھا۔ اس سے کئی صنعتوں میں ہمارے ایم ایس ایم ای بری طرح تباہ ہوئے ہیں۔‘‘ انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’میک اِن انڈیا‘ اب ’امپورٹ فرام چائنا‘ بن گیا ہے۔ اتنا بڑا تجارتی خسارہ ہماری اقتصادی سلامتی کے لیے بھی ایک سنگین چیلنج ہے۔

پی ایم مودی کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’ہندوستان آج بھی 19 جون 2020 کو وزیر اعظم کی جانب سے چین کو دی گئی کلین چٹ کی قیمت ادا کر رہا ہے۔ ہمارے 20 بہادر جوانوں کی شہادت کے بعد وزیر اعظم نے کہا تھا– نہ وہاں کوئی ہماری سرحد میں داخل ہوا اور نہ ہی کوئی گھسا ہوا ہے، نہ ہی ہماری کوئی چوکی کسی دوسرے کے قبضے میں ہے۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’سابق آرمی چیف جنرل نرونے نے انکشاف کیا تھا کہ لداخ میں چینی دراندازی کے دوران انہیں صرف یہی ہدایت ملی تھی کہ– جو مناسب سمجھو، وہ کرو۔‘‘

اس سوشل میڈیا پوسٹ میں جئے رام رمیش نے یہ بات بھی سامنے رکھی کہ 4 جولائی 2025 کو نائب آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل راہل سنگھ نے عوامی طور پر بتایا تھا کہ ’آپریشن سندور‘ کے دوران پاکستان کی فوجی کارروائی میں چین کا کردار کس قدر وسیع اور گہرائی تک پھیلا ہوا تھا۔ لیکن 25 اگست 2026 کو سابق چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انل چوہان نے عوامی طور پر لیفٹیننٹ جنرل راہل سنگھ کے انکشافات کی تردید کی اور اس کے کچھ ہی عرصے بعد آر ایس ایس/بی جے پی کے نظام سے وابستہ ایک اہم تھنک ٹینک کی کمان سنبھال لی۔ ان حقائق کو سامنے رکھنے کے بعد جئے رام رمیش لکھتے ہیں کہ ’’ملک سوال پوچھ رہا ہے: سرحد پر جاری کشیدگی کے باوجود چین کے تئیں یہ نرمی اور اقتصادی محاذ پر بڑھتا ہوا انحصار آخر کس طرح کی قوم پرستی ہے؟ ملک کو 56 انچ کے سینے کے کھوکھلے دعوے نہیں، بلکہ قومی سلامتی پر واضح جواب چاہیے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔