
مرکزی وزارت خارجہ کی جانب سے ’14 ویں پاسپورٹ سیوا دیوس‘ کے موقع پر بدھ (24 جون) کو کہا گیا کہ ہندوستانی پاسپورٹ شہریت کا ثبوت نہیں بلکہ بنیادی طور پر یہ ایک سفری دستاویز ہے۔ وزارت نے کہا کہ پاسپورٹ صرف بین الاقوامی سفر کی سہولت کے لیے جاری کیا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ صرف ہندوستانی شہریوں کو ہی دیا جاتا ہے، اپنے آپ میں یہ شہریت قائم کرنے والی دستاویز نہیں مانا جائے گا۔
Published: undefined
اس پر راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سپریمو لالو پرساد یادو کی بیٹی روہنی آچاریہ نے مودی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ روہنی اچاریہ نے سوال کیا کہ کیا بی جے پی کی رکنیت کا کارڈ ہی شہریت ثابت/ تصدیق کرنے کا جائز کارڈ ہے؟ روہنی اچاریہ نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ ’’ پاسپورٹ، آدھار کارڈ، ووٹر کارڈ، پین کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس جب ان میں سے شہریت کا سرٹیفکیٹ اور مجاز کارڈ کوئی نہیں ہے تو مودی حکومت کو یہ بتانا چاہیے کہ کون سا کارڈ یا کون سی دستاویز شہریت کا ثبوت اور جائز کارڈ ہے؟‘‘
Published: undefined
انہوں نے مزید لکھا کہ ’’ایسی صورتحال میں ہم ہندوستانی موجود وقت میں جتنے کارڈوں کو بنوانے، رکھنے کے پابند ہیں، ان کیا جواز کیا ہے اور ان کارڈوں کے بنوانے کے فارم میں شہریت ثابت کرنے کا کالم کیوں رہتا ہے؟‘‘ روہنی نے مزید سوال کیا کہ ’’کہیں ایسا تو نہیں کہ مودی حکومت بالواسطہ طور پر یہ کہنے کی کوشش کر رہی ہے کہ باقی تمام کارڈ درست نہیں ہیں، صرف بی جے پی کی رکنیت کا کارڈ ہی شہریت ثابت/ تصدیق کرنے کا جائز کارڈ ہے؟‘‘
Published: undefined
دوسری طرف آر جے ڈی کے ترجمان اعجاز احمد نے اس معاملے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’مرکزی حکومت کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ ملک میں کس کاغذ کو شہریت کی دستاویز مانا جائے گا؟ شہریت کے سلسلے میں کون سے کاغذات درست ہوں گے، یہ واضح نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ آدھار کے بعد اب مرکزی حکومت نے کہہ دیا ہے کہ پاسپورٹ بھی شہریت کا ثبوت نہیں ہے، تو مودی حکومت بتائے کہ پھر شہریوں کو شہریت کا کیا ثبوت دینا ہوگا؟
Published: undefined
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’حکومت کا منشا سوالوں کے گھیرے میں ہے۔ بی جے پی حوالہ دے رہی ہے کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ نے بھی یہی کہا ہے، اس لیے بی جے پی بتائے کہ کورٹ میں حکومت نے کن دستاویزات کے بارے میں کہا ہے کہ ان کو شہریت کے سلسلے میں درست مانا جائے گا۔‘‘
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined