قومی خبریں

ہندوستانی وزیر خارجہ جئے شنکر سے ایرانی نائب وزیر خارجہ کی ہوئی ملاقات، 24 گھنٹہ میں تیسری بار ہوا ہند-تہران رابطہ

ایران کے نائب وزیر خارجہ خطیب زادہ اس وقت دہلی میں موجود ہیں۔ خطیب زادہ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ایرانی سپریم لیڈر کے انتخاب سے متعلق امریکی صدر ٹرمپ کے بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

<div class="paragraphs"><p>ہندوستانی وزیر خارجہ ایس جئے شنکر اور ایران کے نائب وزیر خارجہ خطیب زادہ، تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/DrSJaishankar">@DrSJaishankar</a></p></div>

ہندوستانی وزیر خارجہ ایس جئے شنکر اور ایران کے نائب وزیر خارجہ خطیب زادہ، تصویر ’ایکس‘ @DrSJaishankar

 

امریکہ اور ایران کی جنگ کے درمیان ایران سے ہندوستان کا رابطہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں بڑھتا ہوا دکھائی دیا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 3 مواقع پر ایران اور ہندوستان کے سفارت کار ایک دوسرے کے رابطے میں آئے ہیں۔ تازہ معاملہ ہندوستانی وزیر خارجہ ایس جئے شنکر کا ایران کے نائب وزیر خارجہ خطیب زادہ سے ملاقات پر مبنی ہے۔ 6 مارچ کو رائے سینا ڈائیلاگ کے دوران نئی دہلی میں ایس جئے شنکر نے خطیب زادہ سے ملاقات کی۔ دونوں کے درمیان کیا بات چیت ہوئی، اس کی تفصیلی جانکاری سامنے نہیں آئی ہے۔

Published: undefined

اس سے قبل جمعرات کو جئے شنکر نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے فون پر بات کی تھی۔ علاوہ ازیں 5 مارچ کو ہی ہندوستانی خارجہ سکریٹری وکرم مسری نئی دہلی واقع ایرانی سفارت خانہ پہنچے تھے۔ یہاں پر ایران کے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے متعلق ایک دعائیہ جلسہ کا انعقاد کیا گیا تھا۔ مسری نے یہاں اظہارِ تعزیت والے رجسٹر پر دستخط بھی کیا۔

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ ایران کے نائب وزیر خارجہ خطیب زادہ اس وقت دہلی میں ہی موجود ہیں۔ خطیب زادہ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ایرانی سپریم لیڈر کے انتخاب سے متعلق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’ٹرمپ نیویارک کے میئر منتخب نہیں کر سکتے، وہ ایران کے سپریم لیڈر کیسے منتخب کر سکتے ہیں؟‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’کیا آپ اس نوآبادیاتی نظریہ کا تصور کر سکتے ہیں؟ جبکہ وہ اپنے ملک میں جمہوریت دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ ایران کے جمہوری طریقے سے منتخب صدر کو ہٹانا چاہتے ہیں۔‘‘

Published: undefined

خطیب زادہ نے اس دوران ’آئی آر آئی ایس ڈینا‘ کے بحر ہند میں غرق کیے جانے پر بھی اپنا رد عمل ظاہر کیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ بہت افسوسناک اور انتہائی دردناک واقعہ ہے۔ جہاز خالی تھا اور اس پر کوئی اسلحہ موجود نہیں تھا۔ یہ بہت تشویش ناک ہے کہ میلان ایکسرسائز میں حصہ لینے آئے کئی نوجوان ایرانی بحریہ فوجیوں نے اپنی جان گنوا دی۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined

,
  • ’ہندوستان کو روس سے تیل درآمدگی کی اجازت دینے یا نہ دینے کا حق امریکہ کو کس نے دیا؟‘ کانگریس کا سوال