قومی خبریں

ایران کی آئی اے ای اے سے اپیل، ’ایجنسی کو امریکہ کا سیاسی ہتھیار نہ بننے دیا جائے‘

عباس عراقچی نے آئی اے ای اے کے رکن ممالک سے اپیل کی ہے کہ ایجنسی کو امریکہ کے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ انہوں نے امریکی قرارداد کو جانبدار اور بدنیتی پر مبنی قرار دیا

<div class="paragraphs"><p>ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی / آئی اے این ایس</p></div>

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی / آئی اے این ایس

 
Sha Dati

نئی دہلی: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے بورڈ آف گورنرز کے رکن ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے تحت کام کرنے والے اس جوہری نگران ادارے کو ایک مرتبہ پھر امریکہ کے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہونے سے بچائیں۔ انہوں نے ایران کے خلاف امریکہ کی جانب سے تیار کی گئی مجوزہ قرارداد کو سیاسی محرکات پر مبنی اور بدنیتی کا مظہر قرار دیا ہے۔

Published: undefined

اسلامی جمہوریہ خبر رساں ایجنسی کے مطابق عباس عراقچی نے بورڈ آف گورنرز میں شامل ممالک کے وزرائے خارجہ کو ایک خط ارسال کیا ہے، جس میں انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق جاری مباحثے کے دوران غیر جانبداری اور انصاف کو یقینی بنانے پر زور دیا۔ یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں آئی اے ای اے بورڈ آف گورنرز کا جون کا سہ ماہی اجلاس جاری ہے، جہاں ایران کے جوہری پروگرام پر غور کیا جا رہا ہے۔

عباس عراقچی نے اپنے خط میں کہا کہ موجودہ کشیدگی کی بنیادی ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بورڈ آف گورنرز کو ایران کے خلاف کسی بھی غیر قانونی اقدام کے جواز کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے رکن ممالک کو خبردار کیا کہ ایسے فیصلے نہ کیے جائیں جو ادارے کی غیر جانبداری اور ساکھ کو نقصان پہنچائیں۔

Published: undefined

ایرانی وزیر خارجہ نے جون 2025 میں منظور ہونے والی ایک قرارداد کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس کے صرف چوبیس گھنٹے بعد امریکہ اور اسرائیل نے ایران کی ان جوہری تنصیبات پر حملے کیے تھے جو آئی اے ای اے کی نگرانی میں تھیں۔ ان کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں متعدد ایرانی شہری جان سے گئے تھے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا ایک مرتبہ پھر آئی اے ای اے کو ایران کے پرامن جوہری پروگرام کے خلاف جارحانہ اقدامات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ عباس عراقچی نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ برس کے دوران ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکہ اور اسرائیل کے متعدد حملے ہوئے، جبکہ ایرانی جوہری سائنس دانوں اور ان کے اہل خانہ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ان کے بقول آئی اے ای اے کی تاریخ میں اس نوعیت کے واقعات کی مثال نہیں ملتی۔

Published: undefined

انہوں نے کہا کہ ان کارروائیوں نے بین الاقوامی قانون، عالمی امن و سلامتی، جوہری عدم پھیلاؤ کے نظام اور آئی اے ای اے کے نگرانی کے ڈھانچے پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ عباس عراقچی کے مطابق امریکہ کی تیار کردہ مجوزہ قرارداد صرف حالیہ حالات کے نتائج پر توجہ دیتی ہے، جبکہ موجودہ بحران کی اصل وجوہات کو دانستہ طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے زور دے کر کہا کہ بورڈ آف گورنرز کے آئندہ فیصلے نہ صرف ایران کے معاملے بلکہ آئی اے ای اے کی ساکھ، اس کی خودمختاری اور جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے مستقبل کے لیے بھی اہم ثابت ہوں گے۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined