
دیویندر فڑنویس، تصویر سوشل میڈیا
مہاراشٹر میں خشک سالی نے کسانوں کی حالت خستہ کر دی ہے۔ کسانوں کی اس بے حالی کے درمیان ریاستی حکومت نے وی آئی پی مہمانوں کی مہمان نوازی کے لیے 44 نئی گاڑیاں خریدنے کی منظوری دی ہے۔ ان گاڑیوں کی مجموعی قیمت 12 کروڑ 68 لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔ ان میں تقریباً 4.08 کروڑ روپے کی بلٹ پروف لینڈ کروزر 300 بھی شامل ہے۔ حکومت کے اس فیصلے پر سیاسی تنازعہ کھڑا ہونے کا اندیشہ ہے، کیونکہ ریاست کے کئی حصوں میں کسان خشک سالی کی مار جھیل رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ریاستی حکومت نے مختلف زمروں کی مجموعی طور پر 44 گاڑیاں خریدنے کی انتظامی منظوری دی ہے۔ ان گاڑیوں کا استعمال ریاست کے دورے پر آنے والے وی آئی پی اور وی وی آئی پی مہمانوں کے لیے کیا جائے گا۔ اس خریداری میں عام استعمال کی گاڑیوں کے ساتھ سیکورٹی کے پیش نظر تیار کی گئی ایک خصوصی گاڑی بھی شامل ہے۔ اس خریداری میں سب سے زیادہ بحث تقریباً 4 کروڑ 7 لاکھ 68 ہزار روپے کی لینڈ کروزر 300 کو لے کر ہو رہی ہے۔ یہ این آئی جے 3/بی 6 سطح کی سیکورٹی والی بلٹ پروف گاڑی ہے۔
حکومت کی منظوری کے مطابق خریدی جانے والی گاڑیوں میں 32 ٹویوٹا انووا کرسٹا شامل ہیں۔ ہر گاڑی کی تخمینہ شدہ قیمت 20.71 لاکھ روپے ہے۔ اس کے علاوہ فی گاڑی 30 لاکھ روپے کی قیمت والی 2 ٹویوٹا فارچیونر بھی خریدی جائیں گی۔ وی آئی پی مہمانوں کی سیکورٹی کے لیے ایک بلٹ پروف لینڈ کروزر 300 خریدی جائے گی، جس کی قیمت 4.07 کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ فی گاڑی 11.59 لاکھ روپے کی قیمت والی 7 ماروتی سوزوکی ارٹیگا بھی خریدی جائیں گی۔ گاڑیوں کی فہرست میں 9 لاکھ روپے کی ایک ٹاٹا 207 ٹوئنگ گاڑی اور 31 لاکھ روپے کی ایک اربانیا بس بھی شامل ہے۔ ان تمام گاڑیوں کو ملا کر مجموعی طور پر 44 گاڑیاں خریدنے کی منظوری دی گئی ہے۔
مہاراشٹر میں خشک سالی کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے فڑنویس حکومت کا یہ فیصلہ بحث کا موضوع بن سکتا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق ریاست کے 265 تعلقوں میں خشک سالی کا اعلان کیا گیا ہے۔ بارش کی کمی کے باعث کئی علاقوں میں کھیتی باڑی متاثر ہوئی ہے اور کسانوں کو فصلوں کے نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایسے وقت میں نئی گاڑیوں کی خریداری پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ خاص طور پر اس وقت، جب وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کی جانب سے اخراجات میں کٹوتی کرنے کی ہدایات دیے جانے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔