قومی خبریں

’بینک کی لاپرواہی کے سبب دھوکہ دہی ہوئی تو متاثرہ شخص کو پورا معاوضہ دینا ہوگا‘، ڈیجیٹل اریسٹ پر سپریم کورٹ کا انتباہ

سپریم کورٹ نے کہا کہ ’’کئی معاملات میں بینکوں کی غیرفعالیت اور ملازمین کے کردار کے سبب ٹھگ آسانی سے لوگوں کے کھاتوں سے رقم نکال لے جاتے ہیں۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>سائبر فراڈ / آئی اے این ایس</p></div>

سائبر فراڈ / آئی اے این ایس

 
IANS_ARCH

ملک بھر میں تیزی سے بڑھ رہے ڈیجیٹل اریسٹ اور سائبر دھوکہ دہی کے معاملات پر سپریم کورٹ نے سخت رخ اختیار کیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ وہ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کی جانب سے تجویز کردہ سائبر فراڈ مخالف ضوابط کو نوٹیفائی کرنے کی اجازت دینے سے قبل ان کا جائزہ لے گی۔ سپریم کورٹ نے واضح ہدایت دی ہے کہ ان ضوابط میں یہ التزام لازمی طور پر ہونا چاہیے کہ اگر کسی مالیاتی ادارے کی لاپرواہی کے سبب دھوکہ دہی ہوتی ہے تو وہ ادارہ متاثرہ شخص کے نقصان کی پوری بھرپائی کرے۔ عدالت نے کہا کہ کئی معاملات میں بینکوں کی غیرفعالیت اور ملازمین کے کردار کے سبب ٹھگ آسانی سے لوگوں کے کھاتوں سے رقم نکال لے جاتے ہیں۔

سماعت کے دوران عدالت نے تبصرہ کیا کہ ڈیجیٹل اریسٹ کے معاملات میں بینکوں کی جوابدہی طے کرنا بے حد ضروری ہے۔ ایسا نظام ہونا چاہیے جس میں متاثرہ شخص کے کھاتے سے نکالی گئی رقم کی بھرپائی براہ راست بینک کرے، تاکہ عام شہری کو معاوضے کے لیے در بدر نہ بھٹکنا پڑے۔ عدالت نے کہا کہ آر بی آئی کے مجوزہ ضوابط میں یہ لازمی کیا جانا چاہیے کہ اگر مالیاتی ادارے کی جانب سے ضروری جانچ پڑتال اور کے وائی سی جیسے طریقۂ کار میں لاپرواہی برتی گئی ہے، جس کے سبب ڈیجیٹل اریسٹ یا سائبر دھوکہ دہی ہوئی ہے، تو وہ مالیاتی ادارہ متاثرہ شخص کو کم از کم دھوکہ دہی میں گئی پوری رقم کا معاوضہ دے۔

عدالت کی سختی کے پیش نظر مرکزی حکومت کی جانب سے پیش ہوئے اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرائی کہ ڈیجیٹل اریسٹ کے ذریعے دھوکہ دہی کے معاملے میں جس بھی ملازم کی لاپرواہی سامنے آئے گی، اس کی ذاتی جوابدہی طے کی جائے گی اور اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور آر بی آئی مل کر ایک مضبوط نظام تیار کر رہے ہیں۔

سپریم کورٹ نے ایک اور اہم پہلو کی جانب توجہ دلائی۔ عدالت نے کہا کہ ڈیجیٹل اریسٹ کے تقریباً تمام واقعات میں ’واٹس ایپ‘ کے غلط استعمال کی بات سامنے آئی ہے۔ ٹھگ ’واٹس ایپ‘ کال اور ویڈیو کال کے ذریعے خود کو پولیس افسر، سی بی آئی یا ای ڈی کا افسر بتا کر لوگوں کو ڈراتے ہیں اور انہیں ڈیجیٹل طور پر گرفتار کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔