
پری کانفرنس کرتے ہوئے پون کھیڑا، ویڈیو گریب
کانگریس کے سینئر لیڈر پون کھیڑا نے یکم جون کو ایک پریس کانفرنس کے دوران مودی حکومت کو تعلیم کے شعبہ میں مبینہ بے ضابطگیوں، امتحان کے نظام میں موجود خامیوں اور سی بی ایس ای کے آن لائن اسکرین مارکنگ (او ایس ایم) نظام سے متعلق تنازعہ پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران ملک کے لاکھوں نوجوان مختلف امتحانات میں بدعنوانی اور انتظامی ناکامیوں کا شکار ہوئے ہیں، لیکن حکومت ان مسائل پر سنجیدگی سے توجہ دینے کے بجائے عوام کی توجہ دیگر موضوعات کی طرف مبذول کرا رہی ہے۔
Published: undefined
نوجوانوں کے مسائل پر حکومت خاموش
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پون کھیڑا نے کہا کہ ملک میں مسلسل مختلف امتحانات کے پرچے لیک ہونے کے واقعات سامنے آ رہے ہیں، نوجوان ذہنی دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں اور بعض خود کشی جیسے انتہائی سخت اقدامات بھی اٹھا رہے ہیں، لیکن حکومت اس بحران پر سنجیدہ نظر نہیں آتی۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ ’من کی بات‘ پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب ملک کے لاکھوں طلبا اپنے مستقبل کے تعلق سے پریشان ہیں تو حکومت آم کی اقسام، جل زیرہ کی ترکیب اور گرمیوں میں پانی پینے کی اہمیت جیسے موضوعات پر بات کر رہی ہے۔
Published: undefined
پون کھیڑا نے کہا کہ اگر وزیر اعظم مودی اور حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی کے حالیہ بیانات، سوشل میڈیا پوسٹس اور ویڈیوز کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ ایک جانب راہل گاندھی نوجوانوں کے مسائل اور امتحان میں بے ضابطگیوں پر بات کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب حکومت ان معاملات پر خاموش ہے۔ کانگریس رہنما نے کہا کہ گزشتہ 2 برسوں کے دوران نیٹ، سی یو ای ٹی، جے ای ای مینز، بی پی ایس سی اور دیگر متعدد امتحانات میں بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آئے ہیں، جس سے لاکھوں طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق مسئلہ صرف مقابلہ جاتی امتحانات تک محدود نہیں رہا بلکہ اب اسکولی تعلیم اور بورڈ امتحانات بھی سوالوں کے گھیرے میں آ گئے ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ حکومت کا نعرہ ’نہ کھاؤں گا، نہ کھانے دوں گا‘ تھا، لیکن موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اصل نعرہ ’نہ پڑھوں گا، نہ پڑھنے دوں گا‘ ہو۔
Published: undefined
’او ایس ایم‘ نظام پر سوالات
پون کھیڑا نے سی بی ایس ای کے آن لائن اسکرین مارکنگ (او ایس ایم) نظام پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پہلے طلبا کی جوابی کاپیاں براہ راست ممتحن کے پاس جاتی تھیں، لیکن بعد میں اس نظام کو تبدیل کر کے کاپیوں کو اسکین کر کے آن لائن پورٹل پر اپلوڈ کرنے کا طریقہ اختیار کیا گیا۔ ان کے مطابق اس منصوبے کے لیے ٹینڈر جاری کیا گیا تھا۔ پہلے مرحلے میں ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز (ٹی سی ایس) نے حصہ لیا، لیکن واحد بولی دہندہ ہونے کے باعث ٹینڈر مکمل نہیں ہو سکا۔ بعد ازاں اگست 2025 میں ایک اور مرحلہ منعقد کیا گیا، جس میں ’سی او ای ایم پی ٹی‘نامی کمپنی سامنے آئی۔ پون کھیڑا کا الزام ہے کہ ’سی او ای ایم پی ٹی‘ کو ٹھیکہ دلانے کے لیے ٹینڈر کی متعدد شرائط تبدیل کی گئیں۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined