
تصویر سوشل میڈیا، بشکریہ @INCIndia
اترپردیش کے اناؤ میں گنگا ایکسپریس وے کے پَیچ ورک میں ایک بار پھر بڑی بڑی دراڑیں دکھائی دی ہیں۔ مرمت کیے گئے حصے میں دراڑیں آنے کے بعد ایکسپریس وے کی مضبوطی اور تعمیراتی معیار کے متعلق سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل سے اس کی ویڈیو شیئر کر مودی حکومت اور اڈانی پر بدعنوانی کا الزام عائد کیا ہے۔ کانگریس نے اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں لکھا کہ ’’یہ گنگا ایکسپریس وے ہے، جس میں اناؤ کے پاس بڑی بڑی دراڑیں پڑ گئی ہیں۔ 36 ہزار کروڑ روپے کی لاگت سے بنے اس ایکسپریس وے کا افتتاح نریندر مودی نے کیا تھا۔ یہ پہلی بار نہیں ہے جب اس ایکسپریس وے میں کی گئی بدعنوانی سامنے آئی ہے۔ واضح ہے کہ نریندر مودی اور ان کے قریبی دوسرت اڈانی نے اس بنانے میں جم کر بدعنوانی کی ہے۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مسلسل بارش کے باعث پہلے ہی گنگا ایکسپریس وے کے کئی حصوں میں مٹی دھنسنے اور کٹاؤ کے معاملے سامنے آ چکے ہیں۔ اس کے بعد متعلقہ ایجنسیوں نے مرمت اور پَیچ ورک کرایا تھا، لیکن اب اسی مرمت والے حصے میں دراڑیں نظر آ رہی ہیں۔ ایسے میں پَیچ ورک میں دوبارہ دراڑیں آنے سے سڑک کی پائیداری کو لے کر اٹھنے سوالات مزید سنگین ہو گئے ہیں۔
گنگا ایکسپریس وے پر اس سے قبل شدید بارش کے بعد 10 میٹر کا گہرا گڈھا بن گیا تھا۔ میرٹھ-پریاگ راج کیریج وے پر کلومیٹر 421 کے قریب سڑک اور اس کے آس پاس کے پشتے کا ایک حصہ بارش کے پانی کے بہاؤ کے سبب متاثر ہو گیا تھا۔ اس کے بعد اتر پردیش ایکسپریس وے انڈسٹریل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (یو پی ای آئی ڈی اے) کی ٹیم موقع پر پہنچی تھی اور مرمت کا کام شروع کرایا گیا تھا۔ اس سے قبل جولائی میں اناؤ کے سونک ٹول پلازا کو گنگا ایکسپریس وے سے جوڑنے والی تقریباً سات میٹر طویل اپروچ روڈ بھی شدید بارش کے بعد متاثر ہو گئی تھی۔ یہاں پشتے میں مٹی کا کٹاؤ ہوا تھا اور سڑک کا ایک حصہ دھنس گیا تھا۔ بارش کے بعد سامنے آنے والے ان واقعات نے ایکسپریس وے کی تعمیر اور اس کی مضبوطی کو لے کر تشویش بڑھا دی ہے۔
واضح رہے کہ تقریباً 36230 کروڑ روپے کی لاگت سے بنا 594 کلومیٹر طویل گنگا ایکسپریس وے میرٹھ سے پریاگ راج کو جوڑتا ہے۔ 6 لین کا یہ ایکسیس-کنٹرول ایکسپریس وے اتر پردیش کے 12 اضلاع سے ہو کر گزرتا ہے اور اسے ریاست کے لیے اہم انفراسٹرکچر پروجیکٹ مانا جاتا ہے۔ اس کا افتتاح 29 اپریل 2026 کو کیا گیا تھا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔