قومی خبریں

وزارت داخلہ نے ریاستوں سے مانگا پیدائش، اسکول اور ووٹرز کا مذہب وار ڈیٹا، 15 سال کی آبادیاتی تبدیلی کا جائزہ

وزارت داخلہ کی آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق کمیٹی نے ریاستوں سے 15 سال کا مذہب وار ڈیٹا مانگا ہے۔ پیدائش، اسکول داخلوں، ووٹر، آدھار، جائیداد اور مذہبی مقامات کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں

آفس مرکزی وزارت داخلہ، تصویر آئی اے این ایس
آفس مرکزی وزارت داخلہ، تصویر آئی اے این ایس 

نئی دہلی: مرکزی وزارت داخلہ کے تحت قائم ہائی لیول کمیٹی آن ڈیموگرافک چینجز (ایچ ایل سی ڈی سی) نے ریاستی حکومتوں سے گزشتہ 15 برسوں کے دوران مذہب کے لحاظ سے آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق تفصیلی اعداد و شمار طلب کیے ہیں۔ کمیٹی نے پیدائش اور گاڑیوں کے رجسٹریشن، اسکولوں میں داخلوں، جائیداد کی خرید و فروخت، ووٹر رجسٹریشن، آدھار اور راشن کارڈ کے اندراج میں غیر معمولی اضافے سمیت کئی معاملات پر ضلع وار معلومات مانگی ہیں۔

’دی ہندو‘ کی رپورٹ کے مطابق کمیٹی نے ریاستوں کو 35 سوالات پر مشتمل سوالنامہ بھیجا ہے۔ اس میں گزشتہ 15 برسوں کے دوران ہندو، سکھ، عیسائی، مسلم، پارسی اور بدھ برادریوں سے متعلق مختلف زمروں میں مذہب وار اعداد و شمار فراہم کرنے کو کہا گیا ہے۔ تاہم ریاستی حکام کے مطابق زیادہ تر سرکاری محکمے اس نوعیت کا ڈیٹا مذہب کے حساب سے باقاعدگی سے مرتب نہیں کرتے، جس کی وجہ سے سوالنامے کے کئی نکات کا جواب دینا مشکل ہے۔

کمیٹی نے ایسے اضلاع کی نشاندہی کرنے کو بھی کہا ہے جہاں آدھار، ووٹر شناختی کارڈ اور راشن کارڈ کے رجسٹریشن میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہو۔ اسکولوں میں داخلوں کے ایسے رجحانات کی تفصیل بھی مانگی گئی ہے جو ماضی کی شرح پیدائش سے مطابقت نہ رکھتے ہوں، ساتھ ہی ان کے ممکنہ اسباب بتانے کو کہا گیا ہے۔

ووٹر رجسٹریشن کے سلسلے میں گزشتہ 15 برسوں کا ضلع، مذہب اور سال کے حساب سے ڈیٹا مانگا گیا ہے، خصوصاً ایسے افراد کے بارے میں جن کے پاس پچھلی نسل کے پیدائشی سرٹیفکیٹ یا خاندانی ریکارڈ موجود نہ ہوں۔ کمیٹی نے ان رجسٹریشنز میں نمایاں رجحانات اور ارتکاز کی تفصیل بھی طلب کی ہے۔

کمیٹی کی درخواست صرف سرکاری رجسٹریشن تک محدود نہیں ہے۔ اس نے گزشتہ 15 برسوں میں مختلف اضلاع میں قائم کیے گئے مذہبی مقامات، مثلاً مندر، مسجد اور چرچ کی تعداد اور ان کی شناخت کے لیے استعمال کیے گئے جی آئی ایس یا دیگر تکنیکی ذرائع کی معلومات بھی مانگی ہیں۔ مذہبی تعلیمی اداروں، جن میں مدارس بھی شامل ہیں، کی جی آئی ایس میپنگ سے متعلق تفصیلات بھی سوالنامے میں شامل ہیں۔

اس کے علاوہ سرحدی اضلاع، قبائلی علاقوں اور آئین کی پانچویں و چھٹی شیڈول کے تحت آنے والے علاقوں میں مذہبی آبادی کی ساخت میں تبدیلی سے متعلق معلومات طلب کی گئی ہیں۔ درج فہرست قبائل میں مذہب کی تبدیلی سے متعلق مطالعات، انٹیلی جنس جائزوں، کمیشن کی رپورٹوں اور کیے گئے اقدامات کی تفصیل بھی مانگی گئی ہے۔

کمیٹی نے غیر دستاویزی تارکین وطن سے متعلق حراستی مراکز، گرفتاری، حراست اور ملک بدری کے اعداد و شمار کے ساتھ جعلی دستاویزات، انسانی اسمگلنگ، منشیات اور منظم جرائم سے مبینہ تعلقات کی معلومات بھی طلب کی ہیں۔ غیر قانونی نقل مکانی اور غیر مجاز آباد کاری روکنے کے لیے گزشتہ 15 برسوں میں اٹھائے گئے انتظامی اقدامات اور پالیسی تبدیلیوں کی تفصیل بھی سوالنامے کا حصہ ہے۔

ایچ ایل سی ڈی سی کی تشکیل 26 مئی 2026 کو وزارت داخلہ نے کی تھی اور اس کی سربراہی سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس پرکاش پربھاکر ناؤلےکر کر رہے ہیں۔ کمیٹی کو غیر قانونی نقل مکانی اور دیگر ’غیر معمولی وجوہات‘ سے ہونے والی آبادیاتی تبدیلیوں کا مطالعہ کرنے اور ان سے نمٹنے کے اقدامات تجویز کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

ریاستی حکام کے مطابق اصل مشکل یہ ہے کہ بیشتر مطلوبہ معلومات سرکاری ریکارڈ میں مذہب کے اعتبار سے مرتب نہیں کی جاتی۔ ایسے میں گزشتہ 15 برسوں کا مطلوبہ ڈیٹا دوبارہ ترتیب دینا ایک بڑا انتظامی چیلنج بن سکتا ہے۔

اس معاملے پر کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے کمیٹی کے سوالنامے پر اعتراض کیا ہے۔ انہوں نے ’دی ہندو‘ کی رپورٹ شیئر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ کمیٹی کا ایجنڈا متعصبانہ ہے اور رپورٹ کے نتائج پہلے سے طے کیے جا چکے ہیں۔ یہ ان کا سیاسی موقف ہے، جس کی آزادانہ طور پر اس رپورٹ سے تصدیق نہیں ہوتی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔