
آئی اے این ایس
رانچی: جھارکھنڈ میں جے پی ایس سی اور جے ایس ایس سی امتحانات کو لے کر جاری طلبہ احتجاج کے درمیان وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے منگل کو اسمبلی میں حکومت کا موقف واضح کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر سخت حملہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی کے لوگ طلبہ کا چولا پہن کر سیاسی مفاد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور نوجوانوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔
اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے ہیمنت سورین نے کہا کہ حکومت 14ویں جے پی ایس سی ابتدائی امتحان اور بیک لاگ امتحانات کو منسوخ کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ٹی ڈی پی ایل سے وابستہ امتحانات کی جانچ کرائی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بھرتی امتحانات کے پورے نظام میں اصلاح کے لیے ملک کے معروف تعلیمی اداروں، بشمول انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی) اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) کے ماہرین کی مدد لی جائے گی۔
اپنے خطاب کے دوران سورین نے اپوزیشن، خاص طور پر بی جے پی، کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ زعفرانی لباس پہن کر ڈھونگ تو کرتے ہی ہیں، اب ان کی پارٹی کے لوگ طلبہ کا چولا پہن کر سیاسی مفاد حاصل کرنے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے اپوزیشن پر طلبہ کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔
وزیر اعلیٰ کی تقریر کے دوران اپوزیشن ارکان نے نعرے بازی کی اور اسمبلی میں ہنگامہ جاری رہا۔ اس پر سورین نے کہا کہ اپوزیشن ارکان ایوان کے وقار کو مجروح کر رہے ہیں، جبکہ اپنی تقریروں میں جمہوریت کو بچانے کی بات کرتے ہیں۔
سورین نے جے پی ایس سی کا امتحان کرانے والی ایجنسی ٹی ڈی پی ایل پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کمپنی اتر پردیش کی ہے اور اس کا تعلق بہار سے بھی رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت ان معاملات کی جانچ کرانے سے پیچھے نہیں ہٹے گی اور امتحانات میں سامنے آنے والی شکایات اور خدشات کو سنجیدگی سے دیکھا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس سلسلے میں اپنا فیصلہ کر لیا ہے اور اپوزیشن کے احتجاج یا ہنگامے سے اس کے فیصلوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ امتحانی نظام کو زیادہ شفاف اور محفوظ بنانے کے لیے ماہر اداروں سے تکنیکی اور انتظامی مشورے لیے جائیں گے۔
وزیر اعلیٰ نے پیر کو ہوئے اسمبلی گھیراؤ کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کے دوران انتظامیہ اور پولیس نے تحمل کا مظاہرہ کیا۔ ان کے مطابق اسمبلی، پارلیمنٹ اور دیگر آئینی اداروں کے اطراف سکیورٹی وجوہات کی بنا پر پابندیاں نافذ رہتی ہیں، اس کے باوجود مظاہرین اسمبلی کے قریب تک پہنچ گئے۔
سورین نے اپوزیشن پر طلبہ کو گمراہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ مختلف شکلوں اور شناخت کے پیچھے چھپ کر نوجوانوں کو دگمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اپوزیشن جانچ کے عمل کو حتمی نتیجے تک پہنچنے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت طلبہ کے مسائل کا حل چاہتی ہے اور امتحانی نظام میں خامیوں کو دور کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ اپوزیشن پر طنز کرتے ہوئے انہوں نے ایک نظم کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ ’’گرنے کی ابھی اور امکانات باقی ہیں‘‘ اور یہ زوال ابھی شروع ہوا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔