تصویر (ویڈیو گریب)
جموں و کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں ہفتے کی دیر شام بادل پھٹنے کے واقعے کی وجہ سے پہلگام-بیج بہاڑہ راستے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ افسران کے مطابق اس واقعے میں کسی بھی شخص کے ہلاک یا زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ تمام مقامی باشندوں اور سیاحوں کو محفوظ مقامات پر پہنچا دیا گیا ہے۔ افسران نے بتایا کہ بادل پھٹنے سے پہلگام-اوورا-بیج بہاڑہ سڑک کا ایک بڑا حصہ تباہ ہو گیا، جس سے گاڑیوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ سڑک کے کئی حصے بہہ جانے کی وجہ سے یہ راستہ فی الحال ٹریفک کے لیے غیر محفوظ ہو گیا ہے۔
اس قدرتی آفت کی وجہ سے متاثرہ علاقوں میں بجلی اور پینے کے پانی کی سپلائی بھی معطل ہو گئی ہے۔ انتظامیہ نے احتیاط کے طور پر سیاحوں کو محفوظ مقامات پر پہنچایا۔ راحت کی بات یہ رہی کہ واقعے میں کسی قسم کے جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ انتظامیہ نے نقصان کا تخمینہ لگانا شروع کر دیا ہے۔ موسم معمول پر آنے کے بعد سڑک، بجلی اور پانی کی سپلائی بحال کرنے کا کام شروع کیا جائے گا۔
سڑک تباہ ہونے سے کئی دیہاتوں اور سیاحتی مقامات کا رابطہ منقطع ہو گیا ہے جس سے مقامی لوگوں، مسافروں اور سیاحت کے کاروبار پر اثر پڑا ہے۔ مقامی باشندوں نے ضلعی انتظامیہ سے سڑک، بجلی اور پانی کا نظام جلد بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ لوگوں کو درپیش پریشانیوں سے راحت مل سکے۔ یہ واقعہ ایک بار پھر پہاڑی علاقوں میں مانسون کے دوران آنے والی قدرتی آفات کے خطرے کو نمایاں کرتا ہے۔ مقامی لوگوں نے مستقبل میں ایسے حادثات کے اثرات کو کم کرنے کے لیے سڑک کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انتظامیہ نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں میں غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور صورتحال معمول پر آنے تک انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں۔
ماحولیاتی ماہرین کا ماننا ہے کہ جموں و کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں بادل پھٹنے سے ہونے والے نقصان کی ایک بڑی وجہ بڑے پیمانے پر جنگلات کی کٹائی، جنگلاتی اراضی پر ناجائز قبضے، قدرتی نکاسی آب کے راستوں میں رکاوٹیں اور سیاحت کے دوران اونچائی والے علاقوں میں کچرے کو غیر منظم طریقے سے ٹھکانے لگانا ہے۔ سری نگر کی ماحولیاتی سائنسدان ڈاکٹر منشا نثار نے کہا کہ ’’جدید دور میں انسان کی لاپرواہی اور خود غرضی کی وجہ سے ماحول اور ماحولیاتی نظام کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ اب قدرت اسی کا جواب دے رہی ہے۔ یہ قدرت کی طرف سے اسی قسم کا ردعمل ہے۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔