
اگرچہ ملک کے مرکزی بینکوں نے اپنی شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے، لیکن اپنے اندازوں کے ذریعے اس بات کے اشارے دے دیے ہیں کہ آنے والے دنوں میں مہنگائی بڑھ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب بینکوں نے قرض کی شرحوں میں اضافہ کرنا شروع کر دیا ہے۔ ملک کے سب سے بڑے پرائیویٹ قرض دہندہ ایچ ڈی ایف سی بینک نے اپنی ایم سی ایل آر شرحوں میں اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد بینک کے صارفین کی ہوم لون اور کار لون کی ای ایم آئی میں اضافہ ہو جائے گا۔
Published: undefined
ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں دیگر بینکوں کی جانب سے بھی شرحوں میں اضافے کا امکان ہے۔ اس وقت ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کی ریپو ریٹ 5.25 فیصد ہے۔ مرکزی بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے مسلسل تیسری بار ریپو ریٹ میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ ایچ ڈی ایف سی بینک نے کس نوعیت کا اعلان کیا ہے۔
Published: undefined
پرائیویٹ شعبہ کے بینک ایچ ڈی ایف سی بینک نے 8 جون 2026 سے مختلف مدتوں کے لیے مارجینل کاسٹ آف فنڈز بیسڈ لینڈنگ ریٹ (ایم سی ایل آر) میں 10 بیسس پوائنٹس تک اضافہ کر دیا ہے۔ سب سے زیادہ 10 بیسس پوائنٹس کا اضافہ 2 سالہ میعاد والے قرضوں کے لیے کیا گیا ہے، جس کے بعد یہ شرح 8.45 فیصد سے بڑھ کر 8.55 فیصد ہو گئی ہے۔ ایچ ڈی ایف سی بینک کی ویب سائٹ پر موجود اعداد و شمار کے مطابق، ایک سالہ بینچ مارک MCLR میں 5 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کرکے اسے 8.40 فیصد کر دیا گیا ہے۔ ایک سالہ شرح کا استعمال عموماً صارفین کے قرضوں، جیسے آٹو لون، پرسنل لون اور ہوم لون کی شرحیں طے کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔
Published: undefined
اوورنائٹ، 3 ماہ، 6 ماہ اور 3 سال کی مدت والے ایم سی ایل آر میں بھی 5 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد یہ شرحیں بالترتیب 8.10 فیصد، 8.20 فیصد، 8.35 فیصد اور 8.65 فیصد ہو گئی ہیں۔ ایم سی ایل آر میں اضافے کا یہ فیصلہ ریزرو بینک کی جانب سے جمعہ کے روز مسلسل دوسری بار شرح سود کو برقرار رکھنے کے چند دن بعد سامنے آیا ہے۔ ریزرو بینک نے یہ فیصلہ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مغربی ایشیا کے بحران کے باعث رسد میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے ممکنہ اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا تھا۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined