قومی خبریں

گورنر کے دست شفقت نے بچائی دیپک پرکاش کی کرسی، بہار حکومت کی سفارش پر لیا گیا فیصلہ

دیپک پرکاش کی نامزدگی بی جے پی کے ایم ایل سی دیویش کمار کے استعفیٰ کے بعد خالی ہوئی سیٹ کے لیے کی گئی ہے۔ ان کی مدت کار 16 مارچ 2027 تک رہے گی۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا</p></div>

تصویر سوشل میڈیا

 

بہار کے پنچایتی راج کے وزیر دیپک پرکاش کو گورنر نے بہار قانون ساز کونسل کے رکن (ایم ایل سی) کے طور پر نامزد کر دیا ہے۔ اس حوالے سے محکمہ الیکشن نے نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق بہار حکومت کی سفارش پر گورنر نے بدھ (5 اگست) کو یہ فیصلہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ دیپک پرکاش راشٹریہ لوک مورچہ (آر ایل ایم) کے صدر اور راجیہ سبھا رکن اپیندر کشواہا کے بیٹے ہیں۔ دیپک پرکاش کو ایم ایل سی بنائے جانے کا قدم ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب سپریم کورٹ نے دیپک پرکاش کے وزیر بنے رہنے پر سوال اٹھایا تھا۔

دیپک پرکاش کو بہار قانون ساز کونسل کا رکن بنائے جانے پر اپیندر کشواہا نے کہا کہ ’’ یہ تو این ڈی اے کا ایک پرانا اور طے شدہ فیصلہ تھا، جس پر اب عمل درآمد کیا گیا ہے۔ بی جے پی اور این ڈی اے کے تمام لیڈران کے درمیان باہمی مشاورت سے یہ امور پہلے ہی طے پا چکے تھے۔ چونکہ دیپک پرکاش کسی بھی ایوان کے رکن بنے بغیر وزیر بن رہے تھے، اس لیے اسی وقت یہ طے کر لیا گیا تھا کہ انہیں ایوان میں بھیجنا ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ مجھے کامل یقین ہے کہ دیپ پرکاش مکمل لگن اور عوامی خدمت ک جذبے کے ساتھ بہار کی ترقی اور عوام کے مفادات کو نئی مضبوطی دیں گے۔

بہار گزٹ میں شائع محکمہ الیکشن کے نوٹیفکیشن کے مطابق آئین کی دفعہ 171 کی شق (3) کی ذیلی شق (ای) اور شق (5) کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے گورنر نے دیپک پرکاش کو بہار قانون ساز کونسل کا رکن نامزد کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ دیپک پرکاش کی نامزدگی بی جے پی کے ایم ایل سی دیویش کمار کے استعفیٰ کے بعد خالی ہوئی سیٹ کے لیے کی گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق دیپک پرکاش کی مدت کار 16 مارچ 2027 تک رہے گی۔

قابل ذکر ہے کہ حال ہی میں سپریم کورٹ نے بہار حکومت سے یہ واضح کرنے کو کہا تھا کہ ’’دیپک پرکاش کسی ایوان کے رکن نہ ہونے کے باوجود وزیر کے عہدے پر کیسے فائز ہیں۔‘‘ دراصل آئین کے مطابق اگر کوئی شخص وزیر بنتا ہے تو 6 مہینے کے اندر اس کا اسمبلی یا قانون ساز کونسل کا رکن بننا لازمی ہے۔ ایسا نہ ہونے پر متعلقہ شخص کو وزارتی عہدہ چھوڑنا پڑ سکتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔