قومی خبریں

سی بی ایس ای-او ایس ایم تنازعہ پر حکومت کا اہم اقدام، چیئرمین اور سکریٹری کا تبادلہ، تحقیقاتی کمیٹی قائم

سی بی ایس ای کی آن اسکرین مارکنگ نظام پر اٹھنے والے تنازعے کے بعد مرکزی حکومت نے چیئرمین اور سکریٹری کا تبادلہ کر دیا۔ او ایس ایم خدمات کی خریداری اور تحقیقات کے لیے خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے

سی بی ایس ای، تصویر آئی اے این ایس
سی بی ایس ای، تصویر آئی اے این ایس 

نئی دہلی: سی بی ایس ای کی آن اسکرین مارکنگ (او ایس ایم) نظام کو لے کر پیدا ہونے والے تنازعے کے درمیان مرکزی حکومت نے منگل کو اہم انتظامی اقدام کے تحت سی بی ایس ای کے چیئرمین اور سکریٹری کا تبادلہ کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی او ایس ایم خدمات کی خریداری کے عمل اور اس سے متعلق شکایات کی جانچ کے لیے ایک خصوصی جانچ کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔

Published: undefined

یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب طلبہ، سرپرستوں اور ماہرین تعلیم کی جانب سے بورڈ امتحانات کی جانچ کے طریقۂ کار پر مسلسل سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔ حالیہ دنوں میں بڑی تعداد میں طلبہ نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں حاصل ہونے والے نمبرات ان کے جوابات کے معیار سے مطابقت نہیں رکھتے، جس کے بعد معاملہ وسیع بحث کا موضوع بن گیا۔

اسی پس منظر میں پارلیمنٹ کی تعلیم، خواتین، اطفال، نوجوانوں اور کھیلوں سے متعلق قائمہ کمیٹی نے دو جون کو ایک اہم اجلاس منعقد کیا۔ پارلیمنٹ ہاؤس اینیکسی میں ہونے والے اس اجلاس میں سی بی ایس ای کی بارہویں جماعت کے بورڈ امتحانات میں نافذ آن اسکرین مارکنگ نظام اور نویں و دسویں جماعت میں تین زبانوں کے فارمولے کے نفاذ کا جائزہ لیا گیا۔

Published: undefined

اجلاس میں طلبہ، سرپرستوں اور ماہرین تعلیم کی جانب سے پیش کی گئی شکایات اور خدشات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ سب سے زیادہ توجہ بارہویں جماعت کی جوابی کاپیوں کی جانچ کے لیے استعمال ہونے والے آن اسکرین مارکنگ نظام پر مرکوز رہی۔ اس طریقۂ کار کے تحت جوابی کاپیوں کو اسکین کرکے ڈیجیٹل شکل میں جانچ کنندگان کے سامنے پیش کیا جاتا ہے، جہاں وہ کمپیوٹر اسکرین پر جوابات کا جائزہ لے کر نمبرات دیتے ہیں۔

سی بی ایس ای کا موقف ہے کہ اس نظام کے ذریعے جانچ کا عمل زیادہ تیز، شفاف اور یکساں معیار کا بنایا جا سکتا ہے، تاہم اس کے نفاذ کے بعد متعدد طلبہ نے مختلف نوعیت کی شکایات درج کرائیں۔ بعض طلبہ کا کہنا ہے کہ انہیں دیے گئے نمبرات ان کے تحریری جوابات کے مطابق نہیں ہیں، جبکہ کچھ طلبہ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ انہیں دکھائی گئی جوابی کاپی ان کی اصل جوابی کاپی نہیں تھی۔

Published: undefined

متاثرہ طلبہ کو قائمہ کمیٹی کے سامنے اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا گیا۔ اجلاس میں دوبارہ جانچ اور جوابی کاپیوں کی تصدیق کے عمل میں شفافیت کے فقدان کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ شکایات میں جوابی کاپیوں کی اسکیننگ کے معیار، ڈیجیٹل جانچ کے دوران ممکنہ تکنیکی خامیوں، نمبرات اپ لوڈ کرنے میں غلطیوں کے خدشات اور نتائج کی تصدیق کے پیچیدہ طریقۂ کار کو نمایاں طور پر شامل کیا گیا۔

حکومت کی جانب سے چیئرمین اور سکریٹری کے تبادلے اور خصوصی جانچ کمیٹی کے قیام کو اس پورے تنازعے کے تناظر میں ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ جانچ کمیٹی اپنی رپورٹ میں ان تمام شکایات اور انتظامی پہلوؤں کا جائزہ لے کر مناسب سفارشات پیش کرے گی۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined