قومی خبریں

ہڑتال سے پہلے اتوار کو کھلی رہیں گی سرکاری بینک شاخیں، حکومت نے جاری کیے احکامات

حکومت نے 28 سے 30 ستمبر تک مجوزہ بینک ہڑتال سے پہلے عوام کی سہولت کے لیے 27 ستمبر، اتوار کو سرکاری اور علاقائی دیہی بینک کھلے رکھنے کا فیصلہ کیا ہے

<div class="paragraphs"><p>تصویر آئی اے این ایس</p></div>

تصویر آئی اے این ایس

 

نئی دہلی: بینک ملازمین کی 28 سے 30 ستمبر تک مجوزہ تین روزہ ملک گیر ہڑتال کے پیش نظر حکومت نے عام لوگوں کو بینکنگ خدمات میں ممکنہ رکاوٹ سے بچانے کے لیے اہم قدم اٹھایا ہے۔ تمام سرکاری بینک اور علاقائی دیہی بینک (آر آر بی) 27 ستمبر، اتوار کو معمول کے مطابق کھلے رہیں گے۔

ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے تمام بینک شاخوں، دفاتر، اے ٹی ایم سے منسلک شاخوں اور کرنسی چیسٹ کو اتوار کے روز مکمل طور پر فعال رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق اس اقدام کا مقصد ہڑتال کے دوران صارفین کو ضروری بینکنگ خدمات کی فراہمی میں ممکنہ خلل کو کم کرنا ہے۔

وزارت خزانہ نے ایک بیان میں کہا کہ یونائیٹڈ فورم آف بینک یونینز (یو ایف بی یو) نے 28 سے 30 ستمبر تک تین روزہ ملک گیر ہڑتال کی اپیل کی ہے۔ اس سے پہلے 26 اور 27 ستمبر کو ہفتہ وار تعطیلات ہونے کے سبب بینکنگ سرگرمیوں پر مسلسل کئی دن اثر پڑ سکتا تھا۔ اتوار کو بینک کھلے رکھنے سے اس ممکنہ خلل کو محدود کرنے میں مدد ملے گی۔

حکومت کے مطابق اگر ہفتہ اور اتوار دونوں دن بینک بند رہتے اور اس کے بعد تین روزہ ہڑتال ہوتی تو بینکنگ خدمات مسلسل پانچ دن متاثر ہو سکتی تھیں۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے سرکاری بینکوں اور علاقائی دیہی بینکوں کو اتوار کو معمول کے مطابق کام کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

بینک یونینوں نے پانچ روزہ بینکنگ نظام نافذ کرنے اور پرفارمنس لنکڈ انسینٹیو (پی ایل آئی) اسکیم واپس لینے سمیت مختلف مطالبات کو لے کر ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ فی الحال بینک ملازمین کو ہر ماہ دو ہفتہ کو چھٹی ملتی ہے، جبکہ یونینیں باقی دو ہفتہ کو بھی تعطیل کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

حکومت نے کہا ہے کہ بینک صارفین کی سہولت اور فلاح اس کی ترجیح ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق حکومت اور بینک انتظامیہ نے یونینوں سے مجوزہ ہڑتال واپس لینے کی اپیل کی ہے اور ضروری بینکنگ خدمات کو بلا رکاوٹ جاری رکھنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

حکومت نے یہ بھی کہا کہ یونینوں کے اہم مطالبات میں سے ایک، پی ایل آئی اسکیم سے متعلق، پہلے ہی زیر غور لایا جا چکا ہے۔ ملازمین کی تشویش کو دیکھتے ہوئے حکومت نے تفصیلی بات چیت کے بعد اس اسکیم کو فی الحال ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق یونینوں کی بیشتر تشویش کا کافی حد تک ازالہ کیا جا چکا ہے، جبکہ باقی مطالبے پر غور جاری ہے۔ حکومت نے بینک ملازمین سے ہڑتال سے گریز کرنے، بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے اور بینکنگ خدمات کو بلاتعطل جاری رکھنے میں تعاون کی اپیل کی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔