
تصویر آئی اے این ایس
رواں مالی سال میں 10 اگست تک ہندوستان کا نیٹ ڈائریکٹ ٹیکس کلیکشن سالانہ بنیاد پر 23 فیصد بڑھ کر 8.11 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔ سنٹرل ڈائریکٹ ٹیکس بورڈ (سی بی ڈی ٹی) کی جانب سے جاری یہ اعداد و شمار ملک میں بڑھتی ہوئی اقتصادی سرگرمیوں، مضبوط کارپوریٹ آمدنی اور بہتر ٹیکس تعمیل کا براہ راست ثبوت ہے۔ سی بی ڈی ٹی کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو ٹیکس کلیکشن میں آئی اس تیزی کو پرسنل انکم ٹیکس اور کارپوریٹ ٹیکس، دونوں میں درج دوہرے ہندسے کی ترقی سے براہ راست حمایت ملی ہے۔
محکمہ انکم ٹیکس کی جانب سے بڑے پیمانے پر ٹیکس دہندگان کو ریفنڈ جاری کیے جانے کے باوجود نیٹ کلیکشن میں 23 فیصد کا یہ زبردست اضافہ درج کیا گیا ہے، جو خوش آئند ہے۔ ڈائریکٹ ٹیکس کلیکشن کی اس رفتار سے حکومت کو اپنے بجٹ کے اہداف حاصل کرنے اور مالیاتی خسارے کو قابو میں رکھنے کے لیے بڑی تقویت ملے گی۔ ٹیکس آمدنی میں یہ ریکارڈ اضافہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ روایتی معیشت کا دائرہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ حکومت کے پاس اب بنیادی ڈھانچے کی ترقی، دفاع اور سماجی بہبود کی اسکیموں پر خرچ کرنے کے لیے زیادہ مالی صلاحیت موجود ہے، جس سے آنے والے مہینوں میں اقتصادی ترقی کو مزید رفتار ملے گی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق رواں مالی سال میں 10 اگست تک نیٹ ڈائریکٹ ٹیکس کلیکشن سالانہ بنیاد پر 23.09 فیصد بڑھ کر 8.11 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ ہو گیا۔ اس میں غیر کارپوریٹ ٹیکس وصولی میں اضافہ اور ریفنڈ کی سست رفتار کا اہم کردار رہا۔ منگل کو جاری سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جائزہ والی مدت میں نیٹ کارپوریٹ ٹیکس کلیکشن 19.83 فیصد بڑھ کر تقریباً 2.70 لاکھ کروڑ روپے رہا، جبکہ پرسنل انکم ٹیکس سمیت نان کارپوریٹ ٹیکس کلیکشن 23 فیصد بڑھ کر 5.07 لاکھ کروڑ روپے ہو گیا۔ اس دوران سیکورٹیز کے لین دین پر عائد ہونے والے ٹیکس ایس ٹی ٹی سے آمدنی 51 فیصد بڑھ کر 33,824 کروڑ روپے ہو گئی۔ یکم اپریل سے 10 اگست 2026 کے درمیان 1.43 لاکھ کروڑ روپے کے ٹیکس ریفنڈ جاری کیے گئے، جو ایک سال پہلے کی اسی مدت کے مقابلے میں 3.8 فیصد زیادہ ہے۔
مجموعی ڈائریکٹ ٹیکس کلیکشن 19.75 فیصد بڑھ کر تقریباً 9.55 لاکھ کروڑ روپے ہو گیا ہے۔ اس میں کارپوریٹ ٹیکس، پرسنل انکم ٹیکس اور ایس ٹی ٹی شامل ہیں۔ حکومت نے جاری مالی سال کے بجٹ میں ڈائریکٹ ٹیکسز سے 26.97 لاکھ کروڑ روپے جمع کرنے کا ہدف رکھا ہے۔ یہ مالی سال 26-2025 میں جمع کیے گئے 23.40 لاکھ کروڑ روپے کے ٹیکس ریونیو سے تقریباً 15 فیصد زیادہ ہے۔ ڈیلویٹ انڈیا میں شراکت دار روہنٹن سدھوا نے کہا کہ ٹیکس کلیکشن کے اعداد و شمار نان کارپوریٹ ٹیکس اور ایس ٹی ٹی میں مضبوط ترقی اور ریفنڈ کی سست رفتار کو ظاہر کرتے ہیں، جس سے نیٹ ٹیکس کلیکشن میں 23 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔