
وزیر اعظم نریندر مودی / ویڈیو گریب
ملک کے ایک کروڑ سے زائد مرکزی ملازمین اور پنشنرز کا انتظار ہفتہ (18 اپریل) کو ختم ہو گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کابینہ نے ہفتہ کو مرکزی حکومت کے ملازمین اور پنشنرز کے لیے مہنگائی بھتے (ڈی اے) میں 2 فیصد اضافہ کو منظوری دے دی ہے۔ اب مرکزی ملازمین کا مہنگائی بھتہ اور پنشن 58 فیصد سے بڑھ کر 60 فیصد ہو جائے گا۔ مرکزی ملازمین کافی دنوں سے مہنگائی بھتے کا انتظار کر رہے تھے۔ جنوری سے نافذ ہونے والے اس بھتے کا انتظار مارچ کے آغاز سے ہی کیا جا رہا تھا۔ حکومت عام طور پر جنوری میں ہونے والے اضافے کا اعلان مارچ میں کر دیتی ہے، لیکن اس بار یہ اعلان نصف اپریل گزرنے کے بعد ہوا ہے۔
Published: undefined
یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب ملازمین کی تنظیمیں مجوزہ ’آٹھویں پے کمیشن‘ کے تحت تنخواہ کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلیوں کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ اپنے میمورنڈم میں، نیشنل کونسل-جوائنٹ کنسلٹیٹو مشینری (این سی-جے سی ایم) نے3.83 کے اعلیٰ فٹمنٹ فیکٹر کا مطالبہ کیا ہے، جس سے کم از کم بنیادی تنخواہ 18000 روپے سے بڑھ کر تقریباً 69000 روپے ہو سکتی ہے۔ اس نے تنخواہ کے حساب کتاب کے لیے خاندان کی تعریف میں توسیع کی بھی تجویز پیش کی ہے تاکہ اس میں زیر کفالت والدین کو بھی شامل کیا جا سکے۔ ساتھ ہی تنخواہوں کے فرق پر ایک حد مقرر کرنے اور زیادہ تنخواہ میں اضافے اور مہنگائی سے منسلک بھتے دینے کی بھی تجویز دی ہے۔
Published: undefined
حکومت اپنے ملازمین اور پنشنرز کی تنخواہ کے مہنگائی بھتے میں میں 2 بار، جنوری اور جولائی کے مہینوں میں اضافہ کرتی ہے۔ ان تبدیلیوں کا مقصد مہنگائی کے اثرات کو کم کرنا اور ملازمین و پنشنرز کی خریدنے کی قوت اور معیار زندگی کو برقرار رکھنے میں مدد کرنا ہے۔ مہنگائی بھتہ سرکاری ملازمین کو دیا جانے والا ایک ’کوسٹ آف لیونگ ایڈجسٹمنٹ‘ ہے، جس کا حساب بنیادی تنخواہ کے ایک مخصوص فیصد کے طور پر لگایا جاتا ہے تاکہ مہنگائی کے اثرات کو متوازن کیا جا سکے۔
Published: undefined
دوسری جانب یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ کابینہ نے 13000 کروڑ روپے کے فنڈ کے ساتھ ایک ’سویرن میری ٹائم فنڈ‘ کو بھی منظوری دی ہے، تاکہ ہندوستانی پرچم والے، ہندوستان آنے والے اور ہندوستان سے جانے والے جہازوں کو مستحکم اور کفایتی انشورنس سیکورٹی دی جا سکے۔ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ کابینہ نے ’پردھان منتری گرام سڑک یوجنا (پی ایم جی ایس وائی) کو 2028 تک بڑھا دیا ہے، جس کے لیے 3000 کروڑ روپے کا اضافی فنڈ مختص کیا گیا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined