
نئی دہلی: ملک کے سپریم کورٹ اور کچھ ریاستوں کی ہائی کورٹس تک آج کئی اہم مقدمات کی سماعت ہونے جا رہی ہے۔ ان میں سے کچھ مقدمات عوامی اہمیت کے حامل ہیں اور میڈیا ان پر خاص طور پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ جبکہ کچھ معاملات ریاست کے نقطہ نظر سے بہت اہم ہیں اور آنے والے وقت میں ان کا بڑا اثر ہو سکتا ہے۔
اورنگ آباد معاملہ
سپریم کورٹ میں آج اورنگ آباد شہر کا نام 'چھترپتی سمبھاجی نگر' کرنے کو چیلنج کرنے والی ایک عرضی پر سماعت ہونے جا رہی ہے۔ گزشتہ سماعت میں یہ معاملہ سی جے آئی ڈی وائی چندرچوڑ، جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس جے بی پاردی والا کی بنچ کے سامنے تھا۔ عرضی میں یونین آف انڈیا اور ریاست مہاراشٹر کی جانب سے ڈویژنل کمشنر، اورنگ آباد کے 4 مارچ 2020 کے خط کو دی گئی منظوری کو چیلنج کیا گیا ہے، جس میں اورنگ آباد شہر کا نام بدل کر 'چھترپتی سمبھاجی نگر' کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ اس معاملے کی پچھلی سماعت میں کے کویتا کے دلائل کو مدنظر رکھتے ہوئے آج کی تاریخ دی گئی تھی۔
سپریم کورٹ آج 2002 کے گودھرا ٹرین جلانے کے معاملے میں عمر قید کی سزا پانے والے کئی مجرموں کی ضمانت کی درخواستوں اور گجرات حکومت کی اپیل پر سماعت کرے گی۔ گزشتہ سماعت میں چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ، جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس جے۔ بی پاردی والا کی بنچ نے گجرات حکومت اور مجرموں کے وکیل کو ہدایت دی تھی کہ وہ متفقہ چارٹ کی ایک سافٹ کاپی فراہم کریں، جس میں ان کو سنائی گئی اصل سزا اور جیل میں اب تک گزارے گئے وقت جیسی معلومات موجود ہوں۔
حکومت نے اتر پردیش میں بلدیاتی انتخابات میں او بی سی ریزرویشن معاملے کی تحقیقات کے لیے بنائے گئے کمیشن کی عبوری رپورٹ پیش کرنے کے بعد یہ معاملہ سپریم کورٹ میں داخل کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے اس معاملہ کے لیے 24 مارچ کی تاریخ مقرر کی تھی۔ یعنی آج یوپی بلدیاتی انتخابات میں ریزرویشن کو لے کر صورتحال واضح ہو جائے گی۔
ادھر، مدراس ہائی کورٹ آج اے آئی اے ڈی ایم کے جنرل سکریٹری کے انتخاب پر فیصلہ سنایا جائے گا۔ مدراس ہائی کورٹ کی سنگل بنچ نے اتوار کو کہا کہ وہ اے آئی اے ڈی ایم کے کے جنرل سکریٹری انتخاب کے خلاف درخواست کی 22 مارچ کو سماعت کرے گی اور 24 مارچ کو فیصلہ سنائے گی۔
ساتھ ہی عتیق احمد کے بچوں کی تحویل کے معاملے کی آج الہ آباد ہائی کورٹ میں سماعت ہوگی۔ اومیش پال کے سرعام قتل کے بعد عتیق احمد سے وابستہ ہر معاملہ پر لوگوں کی نظر ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔