
منی پور تشدد کی فائل تصویر
تصویر آئی اے این ایس
گوہاٹی: منی پور کے کامجونگ ضلع میں مشتبہ ملی ٹینٹوں کے ایک مسلح گروپ نے حملہ کرکے تنگ کھُل ناگا برادری کے 4 افراد کو ہلاک کر دیا۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک باپ اور اس کا بیٹا بھی شامل ہیں۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔ کامجونگ پولیس کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کی شام تقریباً 4 بجے بھارت-میانمار سرحد کے قریب واقع پلونگ گاؤں میں پیش آیا۔ یہ علاقہ ناگا قبائل کی اکثریت والا ہے اور میانمار کی سرحد پر ستون نمبر 95 کے قریب واقع ہے۔
پولیس کے ایک افسر نے بتایا کہ حملے کے فوراً بعد علاقے کی ناکہ بندی کر کے کارروائی شروع کر دی گئی۔ مقامی باشندوں کے مطابق حملے میں کوکی نیشنل آرمی-برما (کے این اے-بی) کے کیڈر شامل تھے۔ پولیس نے بھی اس تنظیم کے افراد کے حملے میں ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا ہے، تاہم معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔
حملے میں ہلاک ہونے والوں کی شناخت فامی جاجو (43)، ننگ تھیم کساک (35)، بیٹرسن جاجو (50) اور 67 سالہ وارشیم جاجو کے طور پر ہوئی ہے۔ وارشیم جاجو اور فامی جاجو باپ بیٹے تھے۔ واقعے کے بعد ’تنگ کھُل ناگا لانگ‘ نامی تنظیم نے احتجاجاً علاقے میں 24 گھنٹے کے مکمل ایمرجنسی شٹ ڈاؤن کا اعلان کیا ہے۔ تنظیم نے 4 افراد کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کی اپیل کی ہے۔
پلونگ گاؤں وہی علاقہ ہے جہاں نومبر 2023 میں میانمار سے فرار ہوکر آنے والے تقریباً 5 ہزار افراد نے پناہ لی تھی۔ کامجونگ ضلع میں گزشتہ چند برسوں کے دوران اسلحہ اور منشیات کی اسمگلنگ کی متعدد اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔
منی پور کے اوکھرول ضلع میں رواں سال 7 فروری کو ناگا اور کوکی برادریوں کے نوجوانوں کے درمیان ایک جھگڑے کے بعد دونوں قبائل کے درمیان پرتشدد کشیدگی جاری ہے۔ اس سلسلے میں اب تک کم از کم 45 افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔
منی پور کے وزیر اعلیٰ وائی. کھیم چند سنگھ نے چار شہریوں کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں اس طرح کے تشدد کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے اور ایسی کارروائیوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
دریں اثنا، وزارت داخلہ نے منی پور کے 13 مخصوص پولیس تھانوں کے زیر اختیار علاقوں کو چھوڑ کر پوری ریاست کو آرمڈ فورسز (اسپیشل پاورز) ایکٹ، 1958 (افسپا) کے تحت ’پُرتشدد علاقہ‘ قرار دیا ہے۔ یہ حکم یکم اکتوبر 2026 سے چھ ماہ تک نافذ رہے گا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔