
پریس کانفرنس کرتے ہوئے پون کھیڑا، تصویر قومی آواز/ویپن
نئی دہلی: جاپان کے سابق وزیر قانون ہیدیکی ماکیہارا نے ہندوستان میں شِن کانسین یعنی ممبئی-احمد آباد بلٹ ٹرین منصوبے میں مسلسل ہو رہی تاخیر کے لیے ہندوستانی فریق کو مکمل طور پر ذمہ دار قرار دیا ہے۔ ان کے بیان کے بعد کانگریس رہنما پون کھیڑا نے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت اور ریلوے کے وزیر پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان اور جاپان کے درمیان اس اہم اسٹریٹجک بنیادی ڈھانچے کے منصوبے کو انتہائی غیر ذمہ دارانہ انداز میں سنبھالا گیا ہے۔
ہیدیکی ماکیہارا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ وہ خود ہندوستان-جاپان شِن کانسین منصوبے سے وابستہ رہے ہیں اور بین الاقوامی مذاکرات اور اجلاسوں کے دوران انہیں سب سے زیادہ ہندوستانی فریق کا غیر سنجیدہ اور غیر ذمہ دارانہ رویہ محسوس ہوا۔ ان کے مطابق ہندوستانی حکام وعدے کرتے ہیں لیکن ان پر قائم نہیں رہتے اور اپنی ترجیحات کو آخری لمحے تک دوسروں پر مسلط کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ منصوبے کے ذمہ دار وزیر کا رویہ بھی انتہائی نامناسب تھا اور اگر اعلیٰ سطح پر یہی طرز عمل اختیار کیا جائے تو کسی بھی تعمیری شراکت داری کو آگے بڑھانا ممکن نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ سو فیصد یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ اس منصوبے میں پیش رفت نہ ہونے کی مکمل ذمہ داری ہندوستانی فریق پر عائد ہوتی ہے۔
ہیدیکی ماکیہارا نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ جاپانی وزیر اعظم سانائے تاکائیچی کے دورے کے باوجود اس معاملے میں کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہو سکی اور جاپان کو بلٹ ٹرین منصوبے کے سگنلنگ نظام سے الگ کر دیا گیا، حالانکہ ریلوے کے حفاظتی نظام میں سگنلنگ کو سب سے اہم جزو تصور کیا جاتا ہے۔
اس معاملے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کانگریس کے سینئر رہنما پون کھیڑا نے کہا کہ یہ وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کے وزیر ریلوے کی ایک اور نام نہاد کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جاپان کے ایک سابق وزیر، جو اس منصوبے سے براہ راست وابستہ رہے ہیں، اب ہندوستانی حکومت کی ناکامی اور غیر پیشہ ورانہ رویے کو عالمی سطح پر بے نقاب کر رہے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔