قومی خبریں

کرناٹک میں سیلاب سے سنگین صورتحال، ہلاکتوں کی تعداد 23 پہنچی

کرناٹک کے 15 اضلاع گزشتہ دو ہفتوں سے شدید سیلاب کی زدمیں ہیں، وہیں گزشتہ دو دونوں سے ہو رہی موسلادھار بارش کی وجہ سے كوڈاگو اور هاسن اضلاع میں سنگین صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی 

بنگلورو: کرناٹک کے 15 اضلاع گزشتہ دو ہفتوں سے شدید سیلاب کی زدمیں ہیں اور ایک طرف جہاں ان اضلاع میں حالات سدھرنے کا نام نہیں لے رہے ہیں وہیں گزشتہ دو دونوں سے ہو رہی موسلادھار بارش کی وجہ سے كوڈاگو اور هاسن اضلاع میں صورت حال سنگین بنی ہوئی ہے ۔ سیلاب کے سبب پیش آئے واقعات میں اب تک 23 افراد کی جان گئی ہے۔

Published: undefined

اس دوران ہماچل پردیش کے وزیر اعلی جے رام ٹھاکر کی بیٹی اونتیکا سود شمالی کرناٹک میں ڈیم میں پھنس گئیں ۔ انہیں مقامی لوگوں اور حکام نے بچایا ۔ محفوظ مقام پہنچنے پر انہوں نے مقامی شہریوں اور حکام کا شکریہ ادا کیا۔نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس، ہندوستانی فوج اور کرناٹک ڈیزاسٹر رسپانس فورس کی ٹیمیں راحتی کا روایاں چلا رہی ہیں ۔ شمالی کرناٹک کے چار ضلع بیلگام ، باگلکوٹ ، رائے چور اور كوپل میں لوگوں کو کرشنا ندی میں پانی کی سطح بڑھنے کی وجہ سے کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔

Published: undefined

یہاں کے ہزاروں لوگوں کو راحت کیمپ میں لے جایا گیا ہے جبکہ كوڈاگو، شیو موگا اورکروار اضلاع میں شدید بارش کی وجہ سے لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ ریاست میں شدید بارش اور سیلاب کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد 23 ہو گئی ہے ۔ کرناٹک کے 15 اضلاع میں گزشتہ 10 دنوں میں معمولات زندگی درہم برہم ہو گئی ہے ۔ سیلاب میں پھنسے ہوئے لوگ محفوظ مقامات پر جا رہے ہیں۔

Published: undefined

كوڈاگو ضلع کے كورنگل گاؤں میں زمین کھسکنے سے پانچ افراد کی موت ہو گئی ہے ۔ دو افراد کی لاشیں باہر نکالی گئی ہیں جبکہ دیگر تین کی تلاش ابھی جاری ہے ۔ سیلاب سے متاثرہ علاقہ بیلگام میں دورہ کرنے کے بعد وزیر اعلی بی ایس یدی یورپا نے کہا کہ راحتی کام جنگی بنیادوں پر چل رہا ہے اور مختلف راحتی ایجنسیاں راحتی کام میں مصروف ہیں۔مسٹر یدی یورپا نے سیلاب کی وجہ سے مرنے والوں کے لواحقین کو پانچ لاکھ روپے معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے۔

Published: undefined

سیلاب سے متاثرہ اضلاع کا ہوائی سروے کرنے کے بعد وزیر اعلی یدی یورپا آج بذریعہ سڑک سیلاب متاثرہ علاقوں کا جائزہ لینے پہنچے اور راحت مراکز میں ٹھہرے لوگوں سے مل کر ان سے بات چیت کی۔انہوں نے حکام کو کسی بھی حال میں راحتی کام نہ روکنے اور تمام متاثر لوگوں کو محفوظ باہر نکالنے کے لئے کہا ہے ۔ راحتی عملے نے اب تک ہزاروں لوگوں کو متاثر علاقوں سے باہر نکالا ہے۔ریاست میں اسکول اور کالجوں میں کل تک کے لئے چھٹی کا اعلان کیا ہے۔

Published: undefined

چرماڈي گھاٹ اور شراڈي گھاٹ میں زمین کھسکنے کی وجہ سے گوا، ممبئی، كاروار اور منگلورو جانے والی سڑکیں پر آمد ورفت ٹھپ ہو گئی ہے ۔ ٹریک پر پانی جمع ہونے کی وجہ سے ریل خدمات بھی متاثر ہو ئی ہے ۔ كوڈاگو اور شمالی کرناٹک میں بارش کی وجہ سے ریڈارلٹ جاری کیا گیا ہے۔ گزشتہ سال لینڈ سلائیڈنگ سے 20 لوگوں کی موت ہو گئی تھی اور سینکڑوں گھروں کو نقصان پہنچا تھا۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined