
سری نگر: جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے ہارکورہ بدازگام میں منگل کے روز 'گائوں کی اور' مرحلہ دوم پروگرام کے دوران نامعلوم افراد نے گرینیڈ داغنے کے بعد فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک سرکاری ملازم اور ایک سرپنچ ہلاک جبکہ تیسرا ایک زخمی ہو گیا۔ ادھر سری نگر کے مضافاتی علاقہ حضرت بل میں واقع کشمیر یونیورسٹی کے سر سید گیٹ کے باہر منگل کے روز ہونے والے ایک دھماکے میں کم از کم چار افراد زخمی ہوئے۔
Published: undefined
سرکاری ذرائع نے ہاکورہ اننت ناگ میں پیش آئے واقعہ کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ گورنمنٹ مڈل اسکول میں 'گائوں کی اور' مرحلہ دوم پروگرام کے دوران مسلح افراد نمودار ہوئے اور گرینیڈ داغنے کے بعد فائرنگ کی۔ انہوں نے کہا کہ گرینیڈ اور فائرنگ کی وجہ سے پروگرام میں موجود تین افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر نزدیکی ہسپتال منتقل کیا گیا۔ تاہم وہاں ایک سرکاری ملازم اور ایک سرپنچ کو مردہ قرار دیا گیا۔ مہلوکین کی شناخت محکمہ زراعت کے ملازم ظہور احمد اور سرپنچ پیر سعید رفیق کے طور پر کی گئی ہے۔
Published: undefined
ذرائع نے کہا کہ واقعہ کے ایک زخمی منظور احمد پرے کا ہسپتال میں علاج چل رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گرینیڈ اور فائرنگ کے فوراً بعد سیکورٹی فورسز نے مذکورہ علاقہ کو محاصرے میں لیکر تلاشی آپریشن شروع کیا تاہم حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ اس دوران کشمیر زون پولیس نے اپنے آفیشل ٹویٹر ہینڈل پر ایک ٹویٹ میں کہا: 'ہاکورہ اننت ناگ میں دہشت گردی کے ایک واقعہ میں دو عام شہری شدید زخمی ہونے کے بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ بیٹھے۔ پولیس جائے وارداد پر موجود ہے'۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ وادی میں گزشتہ کم وبیش چار ماہ سے جاری غیر یقینی صورتحال کے بیچ پیر کے روز 'گاؤں کی اور' پروگرام کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہوا۔ سال رواں کے ماہ جون میں 'گاؤں کی اور' پروگرام کا پہلا مرحلہ انعقاد پذیر ہوا تھا تاہم متذکرہ پروگرام کا دوسرا مرحلہ اس وقت شروع ہوا ہے جب وادی میں انٹرنیٹ اور ایس ایم ایس خدمات مسلسل بند ہیں اور مرکزی حکومت کی طرف سے دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کی تنسیخ اور ریاست کو دو وفاقی حصوں میں منقسم کرنے کے خلاف غیر اعلانیہ ہڑتال کا ایک لامتناہی سلسلہ جاری ہے۔
Published: undefined
ادھر کشمیر یونیورسٹی کے سر سید گیٹ کے بالمقابل واقع شاپنگ کمپلیکس کے باہر منگل کو دوپہر کے وقت دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں کم از کم چار افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا۔ دھماکے کی وجہ سے علاقے میں افراتفری پھیل گئی اور لوگوں کو محفوظ مقامات کی طرف بھاگتے ہوئے دیکھا گیا۔ دھماکے کی وجہ سے سڑک پر کھڑی کچھ نجی گاڑیوں کے شیشے چکنا چور ہوئے اور کچھ دکانوں کو بھی نقصان پہنچا۔ بتادیں کہ وادی کے تعلیمی اداروں میں امتحانات شروع ہونے سے طلبا کی گہماگہمی تو بڑھ گئی ہے لیکن اکثر تعلیمی اداروں میں پانچ اگست سے درس وتدریس کا عمل معطل ہی ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined