
ایلون مسک / تصویر: آئی اے این ایس
اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے الزام لگایا ہے کہ کچھ بااثر صنعت کار ہندوستان میں ان کی کمپنی اسٹارلنک کی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس کی انٹری روک رہے ہیں، تاکہ ملک کے لوگوں پر اپنی اجارہ دارانہ گرفت برقرار رکھ سکیں۔ تاہم حکومت ہند نے مسک کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں سیٹلائٹ مواصلاتی خدمات کے لیے ضابطہ کار فریم ورک منصفانہ اور غیر امتیازی ہے۔
مسک نے ایکس پر ایک پوسٹ کے جواب میں لکھا کہ ’’بدقسمتی سے، ہمیں کچھ خاص صنعت کار روک رہے ہیں، تاکہ ہندوستانی لوگوں پر ان کی ’اجارہ دارانہ‘ گرفت بنی رہے۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ کون ہیں۔۔۔ یہ ہندوستان کے لوگوں کے خلاف جرم ہے!‘‘ مسک نے ان صنعت کاروں یا کمپنیوں کے نام نہیں بتائے۔
جس پوسٹ پر مسک نے ردعمل دیا، اس میں کہا گیا تھا کہ ہندوستان میں اسٹارلنک کی ضرورت ہے کیونکہ اب بھی بڑی تعداد میں گاؤں براڈ بینڈ انٹرنیٹ سے محروم ہیں۔ مسک نے اس کے بعد کہا کہ اسٹارلنک ہندوستان میں ان لوگوں کو تیز رفتار اور نسبتاً کم قیمت انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی فراہم کر سکتا ہے جو موجودہ قیمتوں کے باعث اس کا استعمال نہیں کر پا رہے یا جن کے پاس انٹرنیٹ کنکشن ہی نہیں ہے۔
مسک کے بیان کے ایک روز قبل نئی دہلی میں جاری انڈیا موبائل کانگریس 2026 میں اسٹارلنک کی بزنس آپریشنز کی نائب صدر لارین ڈریئر نے کمپنی کی ہندوستان میں تیاریوں کی تفصیلات بتائی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اسٹارلنک ہندوستان میں 20 گیٹ وے سائٹس قائم کر چکا ہے، جہاں سیکڑوں اینٹینا نصب کیے گئے ہیں۔ کمپنی نے ہندوستانی ضابطوں اور سلامتی کے تقاضوں کے مطابق خصوصی سکیورٹی کنٹرولز بھی تیار کیے ہیں۔
ڈریئر کے مطابق ان اقدامات کا ایک مقصد ہندوستانی صارفین کا ڈیٹا ملک کے اندر رکھنا بھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسٹارلنک نے ہندوستان میں اپنی سروس شروع کرنے کے لیے ضروری زمینی انفرااسٹرکچر اور آپریشنز تیار کر لیے ہیں اور تمام مطلوبہ منظوری ملنے کے بعد کمپنی ’’جلد از جلد‘‘ سروس شروع کرنا چاہتی ہے۔
حکومت نے اپنے ردعمل میں کہا کہ سوشل میڈیا پر ہندوستان کے سیٹلائٹ کمیونیکیشن سروسز سے متعلق ضابطہ کار فریم ورک کی غیر جانب داری پر سوال اٹھانے والی ایک پوسٹ گردش کر رہی ہے، جس میں اسے امتیازی انداز میں نافذ کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ حکومت کے مطابق یہ تاثر درست نہیں ہے۔
پریس انفارمیشن بیورو کے مطابق حکومت نے کہا ہے کہ سیٹلائٹ کمیونیکیشن سروسز کے لیے ایک ’منصفانہ اور غیر امتیازی‘ اختیار کا فریم ورک نافذ ہے۔ اس کے تحت غیر جغرافیائی مدار پر مبنی سیٹلائٹ کمیونیکیشن سروسز کے لیے تین عالمی موبائل پرسنل کمیونیکیشن بائی سیٹلائٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو ٹیلی کام لائسنس دیے گئے ہیں۔
حکومت نے مزید کہا کہ ہر لائسنس یافتہ کمپنی کے لیے سکیورٹی سے متعلق شرائط کی تعمیل ثابت کرنا ضروری ہے، تاکہ فراہم کی جانے والی خدمات صارفین اور ان کے ڈیٹا کی سلامتی سے متعلق ضروریات پوری کر سکیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔