.jpg?rect=0%2C0%2C677%2C381)
علامتی تصویر
ہریانہ الیکٹرک سٹی ریگولیٹری کمیشن (ایچ ای آر سی) نے گروگرام اور نوح اضلاع میں بجلی تقسیم کی ذمہ داری پرائیویٹ کمپنی ’الیون پاور‘ کو سونپ دی ہے۔ 25 برسوں کے متوازی لائسنس پر سونپے جانے کے بعد پوری ریاست میں سیاسی اور انتظامی افرا تفری کا ماحول ہے۔ دسہرہ سے قبل لیے گئے اس بڑے فیصلے کو بجلی کارپوریشن کے ملازمین کے مشترکہ محاذ نے ’عوام مخالف‘ اور ’ملازمین مخالف‘ قرار دیا ہے۔ ملازمین کا براہ راست الزام ہے کہ ریاست میں سب سے زیادہ منافع بخش ادارے کو نجی ہاتھوں میں سونپ کر سرکاری بجلی کارپوریشن (ڈی ایچ بی وی این) کی کمر توڑی گئی ہے، اور عوام کے پیسوں سے تیار کیے گئے بنیادی ڈھانچے کو نجی کمپنی کے لیے مفت میں تھالی میں سجا کر دینے کی گہری سازش رچی گئی ہے۔
کمیشن کے اس آرڈر کی مخالفت میں بجلی ملازمین نے ریاست گیر تحریک کا اعلان کیا ہے، اور 22 سے 24 اکتوبر تک 3 روزہ مکمل ہڑتال کا الٹی میٹم جاری کیا ہے۔ 21 اکتوبر کو آرڈر کی کاپیاں جلانے کا پروگرام بھی طے ہے۔ انجینئرز ایسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری رویندر گھنگھس کے مطابق 19 اکتوبر کی ایمرجنسی میٹنگ میں یہ حکمت عملی تیار کی گئی تھی، جس کے تحت 24 اکتوبر کو ہڑتال کے تیسرے دن اگلے مرحلے کی بڑی تحریک کا صور پھونکا جائے گا۔ مشترکہ مورچہ نے سنگین وارننگ دی ہے کہ پرائیویٹائزیشن کی اس پالیسی سے نہ صرف عام صافین، کسان اور چھوٹے دکانداروں پر مہنگی بجلی کا اثر پڑے گا، بلکہ ہریانہ کے تقریباً 40000 پکے، کچے، آؤٹ سورسنگ اہلکاروں اور انجینئرز کا مستقبل بھی متاثر ہوگا۔
ملازمین کا کہنا ہے کہ نجی کمپنی صرف منافعے والے علاقوں پر توجہ دیتی ہے، جبکہ نقصان والے دیہی اور زرعی علاقوں کا بوجھ سرکاری کارپوریشنز پر چھوڑ دیا جائے گا۔ تہواروں کے فوراً بعد مکمل 3 دنوں کی ہڑتال کی وارننگ نے پوری ریاست میں بجلی کی سپلائی میں خلل اور بلیک آؤٹ جیسی صورتحال کا سنگین خطرہ پیدا کر دیا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔