قومی خبریں

الیکشن کمیشن کی 14 اعتراضات پر وضاحت، اختلافِ رائے کو معمول قرار دیا، فارم 6 اور دیگر اہم سوالات پر خاموشی

الیکشن کمیشن نے دو ارکان کے 14 تحریری اعتراضات کو معمول کی داخلی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام فیصلے اتفاقِ رائے سے ہوئے، تاہم اعتراضات میں اٹھائے گئے بعض اہم سوالات کا براہِ راست جواب نہیں دیا

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا</p></div>

تصویر سوشل میڈیا

 

الیکشن کمیشن آف انڈیا نے اپنے دو ارکان کی جانب سے گزشتہ 10 ماہ کے دوران درج کیے گئے 14 اعتراضات سے متعلق رپورٹ پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ادارے میں مختلف آرا، تبصرے اور تکنیکی تجاویز معمول کی فیصلہ سازی کا حصہ ہیں۔ کمیشن نے تمام حتمی فیصلے اتفاقِ رائے سے ہونے کا دعویٰ کیا، تاہم ان اعتراضات میں اٹھائے گئے کئی مخصوص سوالات کا براہِ راست جواب نہیں دیا۔

یہ وضاحت ’دی انڈین ایکسپریس‘ کی ایک تحقیق کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں بتایا گیا تھا کہ الیکشن کمشنر ایس ایس سندھو اور وویک جوشی نے کمیشن کے مختلف اقدامات پر کم از کم 14 مرتبہ تحریری اعتراضات درج کیے۔ رپورٹ کے مطابق یہ اعتراضات ووٹر فہرستوں، نئے ووٹروں کے اندراج، ووٹروں کے نام حذف یا بحال کرنے، انتخابی ڈیٹا تک رسائی اور مغربی بنگال میں اپیلوں سمیت اہم معاملات سے متعلق تھے۔

کمیشن نے اپنے بیان میں کہا کہ کسی بھی ادارے میں غور و خوض کے دوران مختلف آرا سامنے آنا فطری ہے اور حتمی فیصلہ ہونے سے پہلے تحریری نوٹس، تبصرے، تکنیکی تجاویز اور داخلی نگرانی کا نظام معمول کی کارروائی کا حصہ ہیں۔ کمیشن کے مطابق ارکان کی جانب سے دی گئی تجاویز کا مقصد انتخابی عمل کو مزید بہتر بنانا اور ووٹروں کے حقوق کا تحفظ تھا۔

الیکشن کمیشن نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ایس آئی آر سمیت انتخابی فہرستوں کی نظرثانی، تقریباً 40 نئی پہل اور دیگر انتخابی اصلاحات سے متعلق فیصلے مکمل کمیشن کی رضامندی سے کیے گئے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ صرف چند داخلی نوٹس اور تبصروں کو سامنے رکھ کر ادارے کے کام کا جائزہ لینا ’تصویر کا صرف ایک پہلو‘ پیش کرتا ہے۔

تاہم، رپورٹ میں جن مخصوص معاملات پر سوال اٹھائے گئے تھے، کمیشن کے بیان میں ان کی تفصیلی وضاحت نہیں ملتی۔ ان میں فارم 6 میں تبدیلی، انتخابی فہرست کے ڈیجیٹل ڈیٹا تک افسران کی رسائی اور مغربی بنگال میں ووٹروں کے خلاف دائر اپیلوں کی منظوری جیسے معاملات شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مئی میں وویک جوشی نے فارم 6 میں مجوزہ تبدیلی پر اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ انتخابی قواعد میں ترمیم کے بغیر فارم میں اس نوعیت کی تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔ ایس ایس سندھو نے بھی اس رائے سے اتفاق کیا تھا۔ بعد میں اگست میں سندھو نے اس تبدیلی کو ’غیر مجاز اور غیر قانونی‘ قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر ہٹانے کی بات کہی تھی۔

انتخابی ڈیٹا کے معاملے میں بھی دونوں کمشنروں نے خدشات ظاہر کیے تھے۔ سندھو نے اگست میں کہا تھا کہ بعض ریاستی انتخابی افسران کو ای آر او نیٹ تک مکمل رسائی حاصل نہیں ہو رہی، جبکہ جوشی نے انتخابی ڈیٹا بیس کے ممکنہ مرکزی کنٹرول اور اس کے آڈٹ کی ضرورت پر سوال اٹھایا تھا۔

الیکشن کمیشن نے دوسری جانب کہا ہے کہ اس کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم سخت ڈیٹا سکیورٹی اور آڈٹ نظام کے تحت کام کرتے ہیں اور انتخابی افسران اپنے قانونی اختیارات کے مطابق ووٹروں کے اندراج اور نام حذف کرنے کا عمل انجام دیتے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔