
پینارائی وجین / آئی اے این ایس
انفورسمنٹ ڈائریکوریٹ (ای ڈی) نے آج کیرالہ میں 10 مقامات پر چھاپہ ماری کی ہے، جن میں سابق وزیر اعلیٰ و کیرالہ اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد پینارائی وجین اور ان کی بیٹی وینا وجین کے ٹھکانے بھی شامل ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ کارروائی مبینہ منی لانڈرنگ معاملے سے متعلق ہے، جس میں کیرالہ کے سابق وزیر اعلیٰ پینارائی وجین کی بیٹی اور ان کی کمپنی ایکسالوجک سولیوشنز پرائیویٹ لمیٹڈ کا نام سامنے آیا تھا۔ یہ معاملہ کوچی واقع کوچین منرلز اینڈ روٹائل لمیٹڈ (سی ایم آر ایل) سے جڑی مبینہ غیر قانونی ادائیگیوں اور مالی بے ضابطگیوں سے متعلق ہے۔
Published: undefined
اس چھاپہ ماری کی بنیاد اپریل 2025 میں ایس ایف آئی او (سیریس فراڈ انوسٹیگیشن آفس) کی جانب سے دائر کی گئی چارج شیٹ ہے۔ ایس ایف آئی او نے وینا وجین کی آئی ٹی کمپنی ایکسالوجک سولیوشنز پرائیویٹ لمیٹڈ (ای ایس پی ایل) پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ الزام ہے کہ کمپنی کو کوچی واقع کوچین منرلز اینڈ روٹائل لمیٹڈ سے 19-2018 سے اگلے 3 برسوں تک کوئی خدمات فراہم کیے بغیر ’غیر قانونی ادائیگیاں‘ موصول ہوئیں۔ سال 2017 میں ایکسالوجک اور ’سی ایم آر ایل‘ کے درمیان سافٹ ویئر اور مارکیٹنگ خدمات کے لیے معاہدہ ہوا تھا، لیکن جانچ میں یہ بات سامنے آئی کہ طے شدہ خدمات سرے سے فراہم ہی نہیں کی گئیں۔
Published: undefined
بتایا جا رہا ہے کہ اس پورے تنازعہ کی جڑیں 2017 سے جڑی ہوئی ہیں، جب وزیر اعلیٰ پینارائی وجین کی بیٹی وینا کی کمپنی ایکسالوجک نے کوچین منرلز اینڈ روٹائل لمیٹڈ کے ساتھ سافٹ ویئر اور مارکیٹنگ خدمات فراہم کرنے کے لیے ایک باضابطہ معاہدہ کیا تھا۔ الزام ہے کہ اس معاہدے کی آڑ میں کوئی کام کیے بغیر کروڑوں روپے کے مشتبہ مالی لین دین کیے گئے۔ اس مبینہ مالی بے ضابطگی کا انکشاف سب سے پہلے 2019 میں ہوا تھا، جب محکمہ انکم ٹیکس (آئی ٹی) نے سی ایم آر ایل کے دفاتر پر ایک بڑی چھاپہ ماری کی تھی۔ محکمہ انکم ٹیکس نے اس تلاشی مہم کے بعد ایک تفصیلی جانچ رپورٹ پیش کی تھی، جس میں سابق وزیر اعلیٰ کی بیٹی کی کمپنی کو کی گئی مشتبہ ادائیگیوں کا پہلی بار باضابطہ ذکر کیا گیا تھا۔
Published: undefined
تنازعہ مسلسل بڑھنے کے بعد مرکزی حکومت نے جنوری 2024 میں ایکسالوجک سولیوشنز، سی ایم آر ایل اور کیرالہ ریاستی صنعتی ترقیاتی کارپوریشن (کے ایس آئی ڈی سی) سے متعلق ان سنگین مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کی جانچ کے لیے ایس ایف آئی او کو احکامات جاری کیے تھے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس معاملے سے وابستہ پرائیویٹ کمپنی سی ایم آر ایل میں سرکاری ادارے کے ایس آئی ڈی سی کی مجموعی 13.4 فیصد حصہ داری ہے۔
Published: undefined
ایس ایف آئی او کی جانچ اور محکمہ انکم ٹیکس کی رپورٹ کو بنیاد بناتے ہوئے انفورسمنٹ ڈائریکوریٹ (ای ڈی) نے آخرکار مارچ 2024 میں اس پورے مالی گھوٹالے میں منی لانڈرنگ کا ایک نیا مقدمہ درج کیا تھا۔ اسی معاملے میں اپنی تحقیقات کو آگے بڑھاتے ہوئے ای ڈی نے اب وزیر اعلیٰ اور ان کی بیٹی کے ٹھکانوں پر یہ بڑی چھاپہ ماری کی ہے، جس کے بعد کیرالہ کی سیاست میں ہلچل اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined