
سابق وزیر اعلیٰ کیرالہ پنرائی وجین / آئی اے این ایس
کیرالہ کے سابق وزیر اعلیٰ اور ریاستی سیاست کی اہم شخصیت پنرائی وجین نے اپنے گھر پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی کارروائی کے بعد پہلی بار کھل کر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مرکزی حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مرکزی تفتیشی ایجنسیوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے اور غیر بی جے پی جماعتوں کے رہنماؤں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
Published: undefined
ترواننت پورم میں کیرالہ اسمبلی کے اجلاس کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پنرائی وجین نے کہا کہ ای ڈی اب ایک غیر جانبدار تفتیشی ادارہ نہیں رہی بلکہ اسے سیاسی مخالفین کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں ایسی ریاستی حکومتوں اور سیاسی جماعتوں پر زیادہ دباؤ ڈالا جا رہا ہے جو بی جے پی کے زیر قیادت مرکزی حکومت سے سیاسی اختلاف رکھتی ہیں۔
وجین نے کہا کہ غیر بی جے پی حکومتوں کے خلاف کارروائیاں مسلسل بڑھ رہی ہیں اور مرکزی ایجنسیاں سیاسی دباؤ کے ایک ذریعہ کے طور پر استعمال ہو رہی ہیں۔ انہوں نے اس صورتحال کو جمہوری اقدار اور سیاسی روایات کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔
Published: undefined
اپنی گفتگو کے دوران انہوں نے کانگریس پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ کانگریس کا رویہ اس معاملے میں مستقل نہیں ہے۔ جب کارروائیاں اس کے خلاف نہیں ہوتیں تو وہ ای ڈی کی حمایت کرتی ہے، لیکن جب اس کے اپنے رہنما تفتیش کے دائرے میں آتے ہیں تو وہ انہی ایجنسیوں پر سوال اٹھاتی ہے۔ وجین نے دعویٰ کیا کہ کانگریس نے ماضی میں اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف بھی ایسی کارروائیوں کی حمایت کی ہے۔
سابق وزیر اعلیٰ نے اپنی بیٹی وینا وجین سے متعلق سی ایم آر ایل-ایکسالوجک مالیاتی لین دین معاملے پر تفصیلی تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ وینا وجین کا ایک بینک کھاتہ منجمد کیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ چھاپہ ماری کے دوران ای ڈی کے افسران نے ان سے کوئی سوال نہیں کیا۔
Published: undefined
پنرائی وجین نے کہا کہ مرکزی تفتیشی ایجنسیوں کے اختیارات کا استعمال قانون کے دائرے میں ہونا چاہیے اور انہیں سیاسی تنازعات کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ ان کے مطابق ملک میں اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف بڑھتی ہوئی کارروائیاں ایک وسیع تر سیاسی رجحان کی عکاسی کرتی ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق وجین کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ان کی بیٹی سے متعلق مالیاتی معاملات کی تفتیش زیر بحث ہے۔ اس وجہ سے ای ڈی کی کارروائی اب صرف ایک قانونی معاملہ نہیں رہی بلکہ کیرالہ کی سیاست میں ایک اہم سیاسی موضوع بھی بن چکی ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined