قومی خبریں

ایبولا بحران: ہندوستان نے افریقہ کو طبی سامان اور حفاظتی کٹس کی پہلی کھیپ روانہ کر دی

وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’ایبولا سے متعلق ابھرتی ہوئی عوامی صحت کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے میں افریقہ کا تعاون کرنے کے لیے ہم پرعزم ہیں۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>تصویر/آئی اے این ایس</p></div>

تصویر/آئی اے این ایس

 

وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے جمہوریہ کانگو (ڈی آر سی) میں پھیلنے والے ایبولا وائرس کو انتہائی شدید خطرہ قرار دیا ہے۔ اس کے تحت ہندوستان نے ایبولا سے نمٹنے کے لیے افریقہ کو فوری طبی سامان اور حفاظتی کٹس کی پہلی کھیپ روانہ کر دی ہے۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’’اتوار کو افریقہ کو فوری طبی سامان اور حفاظتی کٹس کی پہلی کھیپ روانہ کر دی گئی۔ ایبولا سے متعلق ابھرتی ہوئی عوامی صحت کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے میں افریقہ کا تعاون کرنے کے لیے ہم پرعزم ہیں۔‘‘

Published: undefined

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے جمہوریہ کانگو (ڈی آر سی) میں ایبولا وائرس کو انتہائی خطرناک قرار دیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے تشخیص کی سطح کو ’ہائی‘ سے بڑھا کر ’ویری ہائی‘ (اعلیٰ ترین) کیٹیگری میں کر دیا ہے۔ حالانکہ تنظیم کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر اس کا خطرہ کم ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اس وبا اور پڑوسی ملک یوگانڈا میں معاملات کی تصدیق کے بعد بین الاقوامی عوامی صحت کی ہنگامی صورتحال کا اعلان کیا ہے۔

Published: undefined

عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم غیبریسس نے جمعہ کو بتایا کہ اب تک ڈی آر سی میں 82 کیسز اور 7 اموات کی تصدیق ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً 750 مشتبہ کیسز اور 177 مشتبہ اموات بھی ریکارڈ کی گئی ہیں۔ ہندوستانی حکومت نے اتوار کو اپنے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ جو لوگ اس وقت کانگو، یوگانڈا اور جنوبی سوڈان میں رہ رہے ہیں یا وہاں کے سفر پر جا رہے ہیں، وہ وہاں کی مقامی صحت کی ایجنسیوں کی جانب سے جاری کی گئی ایڈوائزری پر سختی سے عمل کریں اور خصوصی احتیاط برتیں۔

Published: undefined

تمل ناڈو کے پبلک ہیلتھ ڈائریکٹوریٹ (ڈی پی ایچ) نے تمام اضلاع کے ہیلتھ افسران کو ہائی الرٹ پر رہنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ ایبولا سے متاثرہ ممالک سے آنے والے مسافروں پر خاص نظر رکھی جا رہی ہے۔ ایئرپورٹس پر اسکریننگ اور چیکنگ بڑھا دی گئی ہے، خاص طور پر ان مسافروں کی جنہوں نے حال ہی میں متاثرہ ممالک کا سفر کیا ہو۔ ساتھ ہی پورے محکمہ صحت میں اضافی تیاریاں بھی شروع کر دی گئی ہیں۔

Published: undefined

کسی بھی مشتبہ کیس سے نمٹنے کے لیے بڑے سرکاری اسپتالوں میں آئسولیشن وارڈ اور ریپڈ ریسپانس ٹیموں کو تیار رکھا گیا ہے۔ میڈیکل کالجوں، ضلع ہیڈ کوارٹر اسپتالوں اور بنیادی صحت کے مراکز کو بھی ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ ہیلتھ کیئر ورکرز کو اس بیماری کے بارے میں آگاہ کریں، جس میں اس کی علامات، پھیلنے کے طریقے اور انفیکشن کنٹرول کے طریقے شامل ہیں۔ ڈاکٹروں، نرسوں اور فیلڈ اسٹاف کے لیے ٹریننگ پروگرام چلائے جا رہے ہیں، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ مشتبہ انفیکشن کی شناخت جلد ہو جائے اور ان کی رپورٹ فوری کی جا سکے۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined