
متنازعہ پوسٹر تصویر سوشل میڈیا، @aajtak
سلی گوڑی میں درگا پوجا کے دوران ’ہندو جاگرن منچ‘ کی جانب سے متنازعہ پوسٹرس لگائے گئے ہیں، اور یہ پوسٹرس بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ ان پوسٹرس میں گوشت خریدنے اور بریانی کھانے کے لیے ہندو دکانوں سے ہی خریداری کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ ’بریانی کھاؤ، لیکن ہندو دکانوں سے‘ کے پیغام والے یہ متنازعہ پوسٹرس سلی گوڑی میں درگا پوجا شروع ہوتے ہی مختلف مقامات پر نظر آ رہے ہیں۔ یہ پوسٹرس ریاستی وزیر شنکر گھوش کے گھر کے بالکل سامنے بھی لگے دیکھے گئے۔ سلی گوڑی کے بھارت نگر میں ترون تیرتھ کلب کی جانب سے منعقدہ درگا پوجا کے میدان کے بالکل سامنے اور ریاستی وزیر شنکر گھوش کے گھر کے قریب ہندو جاگرن منچ نے کئی پوسٹرس لگائے ہیں، اور کلب کے پوجا میدان کے چاروں طرف بھی یہ پوسٹرس لگے ہوئے ہیں۔
ایک پوسٹر پر لکھا ہے ’ہندو دکانداروں سے ہی گوشت خریدیں‘، دوسرے پر لکھا ہے ’بریانی کھانے پر کوئی پابندی نہیں، بریانی کھائیں، لیکن ہندو دکان سے خریدیں‘۔ ان پوسٹرس نے لوگوں میں تجسس بڑھا دیا ہے۔ راہ گیر رک رک کر ان پوسٹرس پر لکھے الفاظ پڑھ رہے ہیں۔ بنگال میں اس معاملے پر سیاست بھی تیز ہو گئی ہیں۔ سلی گوڑی کے سابق میئر نے اس معاملے کو لے کر ریاستی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ہندو جاگرن منچ کے نمائندے ابھیشیک داس نے بتایا کہ یہ پوسٹرس انہوں نے خود لگائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ صرف بھارت نگر تک محدود نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شہر بھر میں اس طرح کے پوسٹرس لگائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان پوسٹروں کے ذریعے ہم ہندو جاگرن منچ کی جانب سے ہندو اتحاد کا پیغام دینا چاہتے تھے۔
ریاستی وزیر شنکر گھوش سے جب ان کے گھر کے قریب لگے ایسے پوسٹرس کے بارے میں پوچھا گیا، تو ان کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات کی جانکاری نہیں ہے کہ یہ پوسٹرس کس نے لگائے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جن لوگوں نے یہ پوسٹر لگائے ہیں، وہی بتا سکتے ہیں کہ انہوں نے اس طرح کے پوسٹر کیوں لگائے۔ سلی گوڑی کے سابق میئر اور بائیں بازو کے لیڈر اشوک بھٹاچاریہ نے اس معاملے کو لے کر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے اسے پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بی جے پی ایک ایسی پارٹی ہے، جو آر ایس ایس کی فاشسٹ پالیسیوں پر عمل کرتی ہے۔ انہوں نے آر ایس ایس پر مذہب کے نام پر نفرت پھیلانے کا الزام لگایا۔ ساتھ ہی انہوں نے بی جے پی پر ایسے پوسٹر لگانے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔
اشوک بھٹاچاریہ نے کہا کہ کوئی کیا کھاتا ہے، کہاں سے سامان خریدتا ہے یا نہیں خریدتا، چاہے وہ بنگالی ہو، ہندو، مسلمان، بہاری یا مارواڑی ہو، یہ سب اس شخص کو خود طے کرنا ہے۔ ہم نے اس سے پہلے کبھی اتنا گھٹیا پروپیگنڈا نہیں دیکھا۔ اب ہم اس کا سامنا کر رہے ہیں اور اس کے پیچھے بی جے پی ہے۔ اشوک بھٹاچاریہ نے وزیر اعلیٰ سویندو ادھیکاری پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ جس طرح کی زبان استعمال کرتے ہیں، اس سے ایسی تنظیموں کو فروغ ملتا ہے۔ انہوں نے ایسے پوسٹروں کو ہٹانے کی اپیل کی۔ ان کے مطابق اس طرح کے پوسٹر ریاست میں امن و سلامتی اور قومی یکجہتی کو ختم کر رہے ہیں۔ صرف اشوک بھٹاچاریہ ہی نہیں، بلکہ دیگر لیڈران نے بھی ان پوسٹروں کو لے کر حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔ سلی گوڑی کے ایک اور سابق میئر نے اسے بدقسمتی قرار دیا ہے۔ انہوں نے اسے عجیب و غریب بتاتے ہوئے کہا کہ مغربی بنگال ایک سیکولر ریاست ہے، اس لیے یہاں اس طرح کی کسی مہم کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔