قومی خبریں

ڈوسو انتخابات: این ایس یو آئی نے اپنا منشور جاری کیا، طلبہ بہبود اور جواب دہی کو بنایا انتخابی ایجنڈا

این ایس یو آئی نے اپنے منشور میں میٹرو رعایتی پاس، 24 گھنٹے لائبریری اور رہائش سمیت 19 نکاتی تجاویز پیش کیں، جبکہ ونود جاکھر نے کہا کہ تنظیم کا منشور طلبہ کی امنگوں اور مسائل کی عکاسی کرتا ہے

<div class="paragraphs"><p>تصویر این ایس یو آئی</p></div>

تصویر این ایس یو آئی

 

نئی دہلی: نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) نے دہلی یونیورسٹی طلبہ یونین (ڈوسو) انتخابات 2026-27 کے لیے اپنا منشور جاری کرتے ہوئے طلبہ کے حقوق، تعلیم، سستی سہولیات، تحفظ، بنیادی ڈھانچے، ذہنی صحت، سماجی انصاف اور روزگار کے مواقع کو اپنے انتخابی ایجنڈے کا مرکز بنایا ہے۔ ’اکاؤنٹیبل ڈی یو، اکاؤنٹیبل ڈوسو‘ کے عنوان سے جاری منشور این ایس یو آئی کے قومی صدر ونود جاکھر اور انتخابات میں تنظیم کے چار امیدواروں کی موجودگی میں جاری کیا گیا۔

اس موقع پر ونود جاکھر نے کہا کہ این ایس یو آئی کا منشور دہلی یونیورسٹی کے طلبہ کی امنگوں اور مسائل کی عکاسی کرتا ہے۔ طلبہ کو شفاف، سستی، جامع اور جواب دہ یونیورسٹی نظام کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ منشور میں خالی وعدوں کے بجائے طلبہ کی زندگی سے جڑے مسائل کے ٹھوس حل پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان کے مطابق سستی آمدورفت اور رہائش سے لے کر بہتر تعلیمی سہولیات، اسکالرشپ، طالبات کا تحفظ، ذہنی صحت اور کیریئر کے مواقع تک طلبہ کی زندگی کے ہر پہلو پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

منشور میں سستی رہائش کے لیے کرایہ کنٹرول کے نفاذ کو مضبوط بنانے اور سستے پی جی و کرایے کی رہائش کے لیے تصدیق شدہ ڈی یو پورٹل بنانے، طلبہ کے لیے میٹرو رعایتی پاس، پیر سے جمعہ تک پانچ روزہ تعلیمی نظام اور طالبات کے لیے ماہانہ دو دن مینسٹرول لیو کی تجویز شامل ہے۔

اس کے علاوہ نئی تعلیمی پالیسی پر مبنی چار سالہ انڈر گریجویٹ نظام میں اصلاح، کھیلوں کی سہولیات میں بہتری، 24 گھنٹے لائبریری، رعایتی 24 گھنٹے کینٹین اور بہتر ذہنی صحت و کونسلنگ خدمات کا بھی وعدہ کیا گیا ہے۔

این ایس یو آئی نے ایس سی اور ایس ٹی طلبہ کے لیے اسکالرشپ اور مالی مدد میں توسیع، انٹرن شپ و کیریئر گائیڈنس کے بہتر مواقع، کلاس روم اور کیمپس کے بنیادی ڈھانچے میں بہتری، قانونی بیداری کے لیے سیمینار اور کیمپ، کیمپس میں قابل اعتماد وائی فائی، امتحانات میں مفت ری چیکنگ و ایویلیوایشن، صاف پینے کے پانی، فیس کے مالی بوجھ کو کم کرنے اور جنسی ہراسانی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کی تجاویز بھی پیش کی ہیں۔

اس کے ساتھ حساسیت اور شمولیت کو فروغ دینے پر بھی زور دیا گیا ہے۔منشور کے ساتھ این ایس یو آئی نے ’’کیا ہوا تیرا وعدہ؟‘‘ کے عنوان سے ایک انتخابی مہم بھی شروع کی، جس کے ذریعے دہلی یونیورسٹی میں محفوظ اور سستی ہاسٹل سہولیات کی کمی، میٹرو رعایتی پاس کی زیر التوا مانگ، کیمپس کی ناکافی سہولیات، اختلاف رائے اور طلبہ کے اظہار پر پابندیوں اور احتجاج کرنے والے طلبہ کے ساتھ برتاؤ جیسے مسائل اٹھائے گئے ہیں۔ تنظیم نے یونیورسٹی انتظامیہ سے زیادہ جواب دہی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کیمپس کے نظم و نسق میں طلبہ کے جمہوری حقوق، تحفظ اور وقار کو مرکزی حیثیت دی جانی چاہیے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔