قومی خبریں

سمراٹ حکومت میں ہوا ’ڈسٹ بن گھپلہ‘، روہنی آچاریہ نے لگایا سنگین الزام

روہنی آچاریہ نے کہا کہ ’’بہار میں ڈسٹ بن بھی ’وی وی آئی پی‘ ہوگئی ہے۔ جس ڈسٹ بن کی قیمت 1500 روپے بتائی جا رہی ہے، اسے 15000 روپے میں خریدا گیا۔ یعنی کوڑے دان چھوٹا، لیکن بل 10 گنا بڑا بنایا گیا ہے۔‘‘

لالو پرساد کی بیٹی روہنی آچاریہ
لالو پرساد کی بیٹی روہنی آچاریہ تصویر سوشل میڈیا

بہار اسمبلی میں قائد حزب اختلاف تیجسوی یادو نے سمراٹ چودھری حکومت پر بدعنوانی اور گھپلے کا الزام لگایا تھا۔ اب ان کی بہن روہنی آچاریہ نے بھی الزام لگایا ہے۔ روہنی نے سمراٹ حکومت پر ڈسٹ بن گھپلے کا الزام لگایا ہے۔ روہنی آچاریہ نے سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے حکومت کو نشانہ بنایا۔ روہنی نے اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’سمراٹ حکومت کا ایک اور جھول، ڈسٹ بن بھی ہوا انمول‘‘ انہوں نے مزید لکھا ہے کہ ’’بہار میں ڈسٹ بن بھی ’وی وی آئی پی‘ ہو گئی۔ جس ڈسٹ بن کی قیمت 1500 روپے بتائی جا رہی ہے، اسے 15000 روپے میں خریدا گیا ہے۔ یعنی کوڑے دان چھوٹا، لیکن بل دس گنا بڑا بنایا گیا ہے۔‘‘

روہنی آچاریہ نے مزید سوال کرتے ہوئے کہا کہ ’’سمراٹ چودھری اور وزیر منگل پانڈے سے بہار کے عوام پوچھ رہے ہیں کہ آخر اس ’مہنگے کوڑے دان‘ کا راز کیا ہے؟ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ یہ کچرا رکھنے کا ڈبہ ہے یا سرکاری خزانہ خالی کرنے کا نیا طریقہ؟‘‘ روہنی نے اپنی پوسٹ میں ایک تصویر بھی شیئر کی ہے۔ اس میں 5 طرح کے ڈسٹ بن دکھائے گئے ہیں۔ اس پر ’بہار میں ڈسٹ بن گھپلہ‘ لکھا ہوا ہے۔

گزشتہ دنوں روہنی آچاریہ نے کہا تھا کہ راشٹریہ جنتا دل کی بہار بھر میں تمام کمیٹیوں کی تحلیل کے بعد پارٹی کے اندر سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ تنظیمی ازسرنو تشکیل کے درمیان روہنی آچاریہ نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا تھا اور پارٹی لیڈر تیجسوی یادو کو نئی تنظیمی ساخت کی تشکیل کے حوالے سے مشورہ دیا تھا۔ روہنی آچاریہ نے کہا تھا کہ آر جے ڈی کی تمام تنظیمی اکائیوں اور شعبوں کو تحلیل کرنے کا فیصلہ بہت پہلے ہی لے لیا جانا چاہیے تھا۔ انہوں نے پارٹی قیادت سے نئی کمیٹیوں کی تشکیل کے دوران لالو پرساد یادو کے سینئر رہنماؤں، کارکنوں اور پُرعزم حامیوں کو ترجیح دینے کی اپیل کی تھی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔