
ٹرمپ / Getty Images
واشنگٹن: امریکی عدالت نے ڈونلڈ ٹرمپ کے برتھ رائٹ شہریت ختم کرنے کے متنازع ایگزیکٹو آرڈر کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اس پر عارضی روک لگا دی ہے۔ ٹرمپ نے صدر بننے کے فوری بعد اس آرڈر پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت امریکہ میں پیدا ہونے والے ان بچوں کی شہریت ختم کرنے کا فیصلہ تھا جن کے والدین امریکی شہری نہیں ہیں۔
Published: undefined
ڈیموکریٹک جماعت کے زیر قیادت 4 ریاستوں نے ٹرمپ کے اس فیصلے کے خلاف عدالت میں درخواست دی تھی۔ سماعت کے دوران یو ایس ڈسٹرکٹ جج جان کافنر نے واضح کیا کہ ٹرمپ کا حکم امریکی آئین کی 14ویں ترمیم کے خلاف ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ میں پیدا ہونے والا ہر شخص ملک کا شہری ہے۔
Published: undefined
ٹرمپ کا یہ حکم 20 فروری سے نافذ ہونا تھا اور اس کا اثر لاکھوں افراد پر پڑ سکتا تھا۔ ان میں وہ بچے شامل ہیں جن کے والدین غیر قانونی طور پر امریکہ میں مقیم تھے لیکن ان کی پیدائش امریکہ میں ہوئی۔ عدالت نے اس حکم پر عمل درآمد روک دیا ہے اور اسے واضح طور پر غیر آئینی قرار دیا ہے۔
Published: undefined
ڈونلڈ ٹرمپ نے 20 جنوری کو اپنے دوسرے دورِ صدارت کی حلف برداری کے فوری بعد اس ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے۔ اس کے تحت امریکی ایجنسیوں کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ ایسے افراد کو امریکی شہریت فراہم نہ کریں جن کے والدین امریکی شہری نہیں ہیں۔
ڈیموکریٹک ریاستوں واشنگٹن، ایری زونا، الینوائے اور اوریگن کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا کہ یہ حکم آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت کے فیصلے پر انسانی حقوق کے کارکنوں اور ڈیموکریٹک جماعت نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined