قومی خبریں

جوہر یونیورسٹی کو راحت، الٰہ آباد ہائی کورٹ کے حکم تک انہدامی کارروائی پر عبوری روک

اعظم خان کی قائم کردہ جوہر یونیورسٹی کو وقتی راحت مل گئی۔ رام پور میں یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے حکم پر فی الحال روک لگا دی گئی ہے اور آئندہ سماعت تک جمود برقرار رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>

آئی اے این ایس

 

مراد آباد: اتر پردیش میں سماجوادی پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق رکن پارلیمنٹ اعظم خان کی قائم کردہ محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بڑی قانونی راحت حاصل ہوئی ہے۔ رام پور ضلع انتظامیہ کی جانب سے یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے حکم پر فی الحال روک لگا دی گئی ہے۔ ڈویژنل کمشنر نے اگلی سماعت تک موجودہ صورت حال برقرار رکھنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے ضلع انتظامیہ کو کسی بھی انہدامی کارروائی سے باز رہنے کا حکم دیا ہے۔

یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (آر ڈی اے) نے دعویٰ کیا کہ یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتیں ضروری منظوریوں اور منظور شدہ نقشوں کے بغیر تعمیر کی گئی ہیں۔ اتھارٹی نے یونیورسٹی انتظامیہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقررہ مدت کے اندر خود ہی ان عمارتوں کو گرانے کی ہدایت دی تھی، بصورت دیگر ضلع انتظامیہ کے ذریعے انہدامی کارروائی کی وارننگ دی گئی تھی۔

رام پور کے ضلع مجسٹریٹ کی جانب سے انہدامی حکم جاری کیے جانے کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے اس فیصلے کو چیلنج کیا، جس پر ڈویژنل کمشنر نے عبوری راحت دیتے ہوئے آئندہ سماعت تک حکم پر عمل درآمد روک دیا۔ اس فیصلے کے بعد یونیورسٹی کی جانب بڑھنے والی بلڈوزر کارروائی بھی فی الحال رک گئی ہے۔

گزشتہ ہفتے انہدامی حکم کے خلاف سماجوادی پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں نے ایودھیا میں احتجاج کیا تھا۔ مظاہرین نے ضلع مجسٹریٹ کے ذریعے صدر جمہوریہ ہند کے نام ایک یادداشت پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ جوہر یونیورسٹی کے خلاف مجوزہ کارروائی فوری طور پر روکی جائے اور تمام متعلقہ فریقوں کو قانونی عمل کے مطابق اپنا موقف پیش کرنے کا مکمل موقع فراہم کیا جائے۔

یہ احتجاج سابق وزیر اور سابق رکن اسمبلی تیج نارائن پانڈے کی قیادت میں منعقد ہوا، جس میں سیکڑوں سماجوادی کارکنوں نے شرکت کی۔ مظاہرین نے حکومت پر سیاسی انتقام لینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایک تعلیمی ادارے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

تیج نارائن پانڈے نے کہا کہ اگر عمارتوں کے نقشوں یا دستاویزات میں کوئی تکنیکی یا قانونی خامی موجود ہے تو انتظامیہ کو پورے تعلیمی ادارے کو بند کرنے یا عمارتیں منہدم کرنے کے بجائے ان خامیوں کو دور کرنے کا موقع دینا چاہیے۔ ان کے مطابق حکومت کو تعلیمی اداروں کے تحفظ کو ترجیح دینی چاہیے۔

انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف ملک کو ’’وشو گرو‘‘ بنانے کے دعوے کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف بچوں کے ہاتھوں سے قلم اور کتاب چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ علم کے مراکز پر بلڈوزر چلا کر ملک کو مضبوط نہیں بنایا جا سکتا، بلکہ اگر کسی قسم کی قانونی یا تکنیکی کمی ہے تو اسے ضابطوں کے مطابق درست کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔

ڈویژنل کمشنر کی جانب سے عبوری روک کے بعد اب اس معاملے کی آئندہ سماعت میں دونوں فریقین کے دلائل کی روشنی میں مزید فیصلہ کیا جائے گا، جبکہ اس وقت تک جوہر یونیورسٹی کے خلاف کوئی انہدامی کارروائی نہیں کی جائے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔