
اجے ماکن
دہلی میں فضائی آلودگی کے مسئلے پر کانگریس رہنما اجے ماکن نے ایک بار پھر حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ شہر کی ہوا میں نظر آنے والی بہتری دراصل موسم کے سازگار حالات کا نتیجہ ہے، نہ کہ حکومتی پالیسیوں کی کامیابی۔ اپنی تازہ ویڈیو میں انہوں نے مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ کے فضائی معیار کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موسم کے اثرات کو الگ کرنے پر دہلی کا فضائی معیار اشاریہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 13 درجے زیادہ خراب دکھائی دیتا ہے۔
Published: undefined
اجے ماکن نے کہا کہ آج دہلی کے تقریباً تمام 41 نگرانی مراکز پر باریک معلق ذرات پی ایم 2.5 کی سطح عالمی ادارۂ صحت کی مقررہ حد سے زیادہ ہے، جبکہ پی ایم 10 کی مقدار ہندوستان کے قومی فضائی معیار سے بھی اوپر ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق اگر موسم کے اثرات کو الگ کر دیا جائے تو شہر کی فضائی صورتحال مزید تشویش ناک نظر آتی ہے۔
ویڈیو میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق پی ایم 10 کی سطح گزشتہ سال کے مقابلے میں 18 فیصد زیادہ ہے، جبکہ کاربن مونو آکسائیڈ میں 13 فیصد اور سلفر ڈائی آکسائیڈ میں 12 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اجے ماکن کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آلودگی پر قابو پانے کے لیے اختیار کی گئی پالیسیاں مؤثر ثابت نہیں ہو سکیں۔ ان کے مطابق سات میں سے پانچ اہم آلودگی پھیلانے والے عناصر کی صورتحال یا تو جوں کی توں ہے یا پہلے سے زیادہ خراب ہو چکی ہے۔
Published: undefined
انہوں نے کہا کہ شہر میں سب سے خراب صورتحال آنند وہار کے علاقے میں دیکھی گئی، جہاں فضائی معیار اشاریہ 279 ریکارڈ کیا گیا جو خراب زمرے میں شمار ہوتا ہے۔ ان کے مطابق یہ سطح گزشتہ سال کے مقابلے میں 56 درجے زیادہ ہے اور اس کی بنیادی وجہ پی ایم 10 کی بلند مقدار ہے۔
اجے ماکن نے دعویٰ کیا کہ آج دہلی کی فضا کو سب سے زیادہ نقصان پی ایم 10 پہنچا رہا ہے۔ ان کے مطابق 42 میں سے 38 نگرانی مراکز پر یہی سب سے بڑا آلودگی پھیلانے والا عنصر رہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ موسم کے اثرات کو الگ کرنے پر گندھک ڈائی آکسائیڈ کی سطح 38 میں سے 24 مراکز پر مزید خراب پائی گئی، جبکہ سب سے زیادہ متاثرہ مرکز پر اس میں 68 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا۔
Published: undefined
کانگریس رہنما نے خبردار کیا کہ آلودگی کا بوجھ شہر کے مختلف علاقوں میں یکساں نہیں ہے اور بعض مقامات پر صورتحال زیادہ سنگین ہے۔ ان کے مطابق اس سطح کی آلودگی سانس اور دل کے امراض میں مبتلا افراد، بچوں اور بزرگوں کے لیے اضافی خطرات پیدا کر سکتی ہے۔
اجے ماکن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تعمیراتی سرگرمیوں اور سڑکوں کی گرد سے پیدا ہونے والی آلودگی پر فوری سخت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے آنند وہار میں مقامی آلودگی کے ذرائع کے خلاف ہنگامی اقدامات اور عوامی صحت سے متعلق انتباہات جاری کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے ساتھ انہوں نے کہا کہ فضائی معیار کے اہداف کو عالمی ادارۂ صحت کے معیار کے قریب لانے کے لیے مزید سخت بنایا جانا چاہیے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined