
اجے ماکن کی ویڈیو پر مبنی علامتی تصویر / اے آئی
نئی دہلی: اجے ماکن نے دہلی کی فضائی آلودگی کے مسئلے پر ایک بار پھر حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ شہر کی ہوا میں نظر آنے والی بہتری دراصل موسم کی مہربانی ہے، حکومتی پالیسیوں کا نتیجہ نہیں۔ انہوں نے اپنی ایکس پوسٹ اور اس کے ساتھ جاری ویڈیو میں مختلف ماحولیاتی اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر موسم کے اثرات کو الگ کر کے دیکھا جائے تو گزشتہ ایک سال کے دوران دہلی کے کسی بھی بڑے آلودگی پھیلانے والے عنصر میں حقیقی کمی ریکارڈ نہیں کی گئی۔
Published: undefined
اجے ماکن گزشتہ کئی ہفتوں سے فضائی آلودگی سے متعلق اعداد و شمار کی بنیاد پر مسلسل حکومت پر تنقید کر رہے ہیں۔ ان کی ہر ویڈیو میں ایک جملہ نمایاں طور پر دہرایا جاتا ہے کہ ’سانس لینا بنیادی حق ہے، سہولت نہیں‘۔ تازہ ویڈیو میں بھی انہوں نے اسی نعرے کے ساتھ حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔
ویڈیو میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق موسم کے اثرات کو الگ کرنے کے بعد سلفر ڈائی آکسائیڈ کی سطح میں 23 فیصد، معلق ذرات پی ایم 10 میں 13 فیصد اور کاربن مونو آکسائیڈ میں 7 فیصد اضافہ سامنے آیا ہے۔ اجے ماکن کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ آلودگی کے مسئلے پر مؤثر پیش رفت نہیں ہوئی اور موسمی حالات نے صرف وقتی طور پر صورتحال کو بہتر دکھایا ہے۔
Published: undefined
انہوں نے کہا کہ سات مختلف آلودگی پھیلانے والے عناصر کا جائزہ لینے پر معلوم ہوا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں کسی بھی عنصر میں حقیقی کمی درج نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق موسم نے لوگوں کو یہ تاثر دیا کہ فضا نسبتاً صاف ہو رہی ہے، جبکہ زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔
ویڈیو میں کہا گیا ہے کہ دہلی کے تمام 43 نگرانی مراکز پر پی ایم 2.5 کی سطح عالمی ادارۂ صحت کی مقررہ حد سے زیادہ پائی گئی۔ اسی طرح پی ایم 10 کی مقدار بھی تمام 43 مراکز پر نہ صرف عالمی ادارۂ صحت کے معیار بلکہ ہندوستان کے قومی فضائی معیار سے بھی اوپر رہی۔ اجے ماکن کے مطابق شہر بھر میں گندھک ڈائی آکسائیڈ کی اوسط سطح گزشتہ سال کے مقابلے میں 17 فیصد بڑھی، جبکہ ایک مرکز پر اس میں 248 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
Published: undefined
انہوں نے کہا کہ ان اعداد و شمار سے واضح اشارہ ملتا ہے کہ ڈیزل جنریٹر سیٹ اور صنعتی ذرائع آلودگی کے بڑے ذمہ دار ہیں، نہ کہ گھریلو ایندھن۔ ان کے مطابق سب سے زیادہ متاثرہ نگرانی مرکز آئی ایچ بی اے ایس رہا، جہاں پی ایم 2.5 کی سطح 91 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ریکارڈ کی گئی، جو عالمی ادارۂ صحت کی حد سے تقریباً چھ گنا زیادہ اور گزشتہ سال کے مقابلے میں 42 فیصد بلند ہے۔
اجے ماکن نے عالمی ادارۂ صحت کی تنبیہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سفر ڈائی آکسائیڈ کی بلند سطح دمے کے حملوں اور سانس کی نالیوں میں سوزش کا سبب بن سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حرارتی بجلی گھروں اور ڈیزل جنریٹر سیٹوں میں آلودگی کم کرنے والے نظام کی فوری جانچ کی جائے، آئی ایچ بی اے ایس اور اس سے ملحقہ علاقوں میں ہنگامی بنیادوں پر کارروائی اور صحت سے متعلق انتباہات جاری کیے جائیں، جبکہ عالمی ادارۂ صحت کی فضائی معیار کی حدوں کو قانونی درجہ دیا جائے۔ اجے ماکن نے کہا کہ صاف دکھنے والی ہوا موسم کا تحفہ ہو سکتی ہے، لیکن اسے حکومتی کامیابی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined