
راجدھانی دہلی میں نیٹ پیپر لیک معاملے پر جاری احتجاج کے درمیان دہلی یونیورسٹی (ڈی یو) نے طلبا اور اساتذہ کے لیے ایک اہم ایڈوائزری جاری کی ہے۔ یونیورسٹی نے جنتر منتر پر ہونے والے احتجاجی مظاہروں سے دور رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اجتماعات میں شریک ہونے پر قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ ڈی یو کا کہنا ہے کہ اس طرح کی سرگرمیاں نہ صرف طلبا کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں بلکہ ان کے تعلیمی ریکارڈ اور مستقبل کے پیشہ ورانہ کیریئر پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی طلبا کو سوشل میڈیا پر پھیلائی جا رہی گمراہ کن اور فرضی خبروں سے بھی محتاط رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبا اور اساتذہ سے کہا ہے کہ وہ جنتر منتر پر کسی بھی غیر مجاز دھرنے یا احتجاج کا حصہ نہ بنیں۔ یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت جنتر منتر علاقے میں احتجاج سے متعلق خصوصی ضابطے نافذ ہیں۔ اگر کوئی شخص غیر قانونی اجتماع میں شریک ہوتا ہے تو اس کے خلاف انتظامیہ اور پولیس قانونی کارروائی کر سکتی ہے۔ یونیورسٹی نے یہ بھی کہا کہ طلبا اور اساتذہ کی سلامتی اس کی اولین ترجیح ہے۔ ایسے اجتماعات میں شرکت سے ذاتی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اور تعلیم کے ساتھ ساتھ مستقبل میں پیشہ ورانہ مواقع بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس لیے تمام طلبا سے قانون کی پابندی کرنے اور محفوظ رہنے کی اپیل کی گئی ہے۔
ڈی یو انتظامیہ نے طلبا کو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی افواہوں اور گمراہ کن معلومات سے بھی محتاط رہنے کی ہدایت دی ہے۔ یونیورسٹی کے مطابق بعض عناصر حالات کو بھڑکانے کے لیے جھوٹی اور گمراہ کن معلومات پھیلا رہے ہیں۔ ایسے میں کسی بھی اطلاع پر یقین کرنے یا اسے آگے شیئر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق ضروری ہے۔
واضح رہے کہ نیٹ یو جی امتحان میں پیپر لیک کو لے کر دہلی کے جنتر منتر پر مسلسل احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ حالیہ دنوں میں احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم کے واقعات بھی سامنے آئے تھے۔ اس معاملے پر اپوزیشن پارٹیاں بھی سرگرم ہو گئی ہیں۔ اپوزیشن لیڈران نے طلبا کی حمایت میں مارچ نکالا اور تعلیمی نظام میں جواب دہی طے کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ بھی زور پکڑتا جا رہا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔