قومی خبریں

دہلی یونیورسٹی کی طالبات نے گریٹر نوئیڈا اجتماعی عصمت دری کے خلاف نصف شب کو نکالا مارچ

گزشتہ دنوں 16 سالہ لڑکی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کا گھناؤنا عمل اس بس میں انجام دیا گیا تھا، جس میں وہ سوار ہوئی تھی۔ اس واقعہ کے خلاف مارچ میں طالبات نے اپنے شدید غصے کا اظہار کیا۔

<div class="paragraphs"><p>بوقت نصف شب احتجاجی مارچ نکالتی ہوئیں طالبات، تصویر قومی آواز/ویپن</p></div>

بوقت نصف شب احتجاجی مارچ نکالتی ہوئیں طالبات، تصویر قومی آواز/ویپن

 

دہلی یونیورسٹی کی کئی طالبات نے گریٹر نوئیڈا میں 16 سالہ لڑکی کی اجتماعی عصمت دری معاملہ پر احتجاجی مارچ نکالا ہے۔ یہ احتجاجی مارچ نصف شب کو نکالا گیا جس میں عوامی مقامات کو خواتین کے لیے زیادہ محفوظ بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔ دراصل گزشتہ دنوں 16 سالہ لڑکی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کا گھناؤنا عمل اس بس میں انجام دیا گیا تھا، جس میں وہ سوار ہوئی تھی۔ اس واقعہ کے خلاف مارچ میں طالبات نے اپنے شدید غصے کا اظہار کیا۔

منگل کی دیر شب طلبا تنظیم ’اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا‘ (ایس ایف آئی) کی جانب سے ’ری کلیم دی نائٹ‘ مہم کے تحت منعقد کیے گئے اس مارچ کے دوران دہلی یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین (ڈی یو ایس یو) انتخابات کے پیش نظر تنظیم کے ’طالبات منشور‘ کو بھی جاری کیا گیا۔ منشور میں خواتین کی حفاظت، نمائندگی اور صنفی انصاف کو اپنے مطالبات میں مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔ اس میں ڈی یو ایس یو انتخابات میں تمام خواتین کالجوں کو ووٹ دینے کا حق دینے اور یونین کے عہدیداروں کے عہدوں میں خواتین کے لیے 50 فیصد ریزرویشن کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اس منشور میں طالبات کو تعلیم چھوڑنے سے روکنے کے لیے اقدامات، اسکالرشپ اور فیلوشپ تک زیادہ رسائی، صنفی حساس نصاب اور دہلی یونیورسٹی کے تمام کیمپس میں باقاعدگی سے آزادانہ حفاظتی آڈٹ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی طلبا تنظیم نے مضبوط ہنگامی امدادی نظام، کیمپس میں خواتین پولیس اہلکاروں کی تعیناتی اور اخلاقی نگرانی اور صنفی بنیاد پر ہراسانی کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا۔

مظاہرین طالبات نے مارچ کے دوران واضح لفظوں میں کہا کہ خواتین کی حفاظت ان کی آزادی کی قیمت پر نہیں ہونی چاہیے اور ان پابندیوں کی مخالفت کی جن کے تحت طالبات کو اندھیرا ہونے کے بعد گھروں کے اندر رہنے کو کہا جاتا ہے۔ طالبات نے کہا کہ یونیورسٹیوں اور ریاست کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ خواتین آزادانہ طور پر اور بغیر کسی خوف کے تعلیم حاصل کر سکیں، سفر کر سکیں اور عوامی مقامات سے گزر سکیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔