قومی خبریں

دہلی فساد کے کلیدی ملزمین شرجیل امام اور عمر خالد ضمانت کے لیے پھر پہنچے عدالت

شرجیل امام کی گزشتہ ضمانت عرضی میں سپریم کورٹ نے 5 جنوری 2026 کو خارج کر دیا تھا۔ ٹرائل کورٹ نے اس معاملے میں دہلی پولیس سے جواب مانگا ہے۔ مقدمہ کی سماعت 4 جولائی کو ہونی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>عمر خالد اور شرجیل امام، تصویر سوشل میڈیا</p></div>

عمر خالد اور شرجیل امام، تصویر سوشل میڈیا

 

2020 میں ہوئے دہلی فسادات کے کلیدی ملزمین شرجیل امام اور عمر خالد نے دہلی کی کڑکڑڈوما کورٹ میں ایک بار پھر ضمانت کی عرضی داخل کی ہے۔ شرجیل امام کی سابقہ ضمانت کی درخواست سپریم کورٹ نے 5 جنوری 2026 کو مسترد کر دی تھی۔ ٹرائل کورٹ نے اس معاملے میں دہلی پولیس سے جواب طلب کیا ہے، جبکہ مقدمے کی اگلی سماعت 4 جولائی کو ہونی ہے۔

Published: undefined

شرجیل امام اور عمر خالد کی درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے ان کی سابقہ ضمانت کی درخواست مسترد کیے جانے کے 6 ماہ سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود مقدمہ کی سماعت میں کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ اضافی سیشن جج سُمیدھ سینی کے سامنے دائر ان نئی درخواستوں پر عدالت نے جمعہ کے روز دہلی پولیس سے جواب طلب کیا اور معاملے کی آئندہ سماعت 4 جولائی کے لیے مقرر کر دی۔

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ جنوری میں سپریم کورٹ نے 2020 کے دہلی فساد سازش معاملے میں عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت دینے سے انکار کر دیا تھا، جبکہ 5 دیگر ملزمین کو راحت دے دی گئی تھی۔ جسٹس اروند کمار اور جسٹس این وی انجاریا کی بنچ نے کہا تھا کہ یو اے پی اے (غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ) کے تحت عمر خالد اور شرجیل امام کے خلاف بادی النظر میں مقدمہ بنتا ہے۔ عدالت نے یہ بھی تبصرہ کیا تھا کہ مقدمہ کے تمام ملزمین سازش میں یکساں کردار کے حامل نہیں ہیں۔ اسی وجہ سے عدالت نے گلفشاں فاطمہ، میران حیدر، شفا الرحمٰن، محمد سلیم خان اور شاداب احمد کو ضمانت دے دی تھی۔

Published: undefined

واضح رہے کہ عمر خالد، شرجیل امام اور کئی دیگر افراد کے خلاف یو اے پی اے اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ان پر فروری 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے فسادات کا مرکزی سازش کار ہونے کا الزام ہے۔ دراصل سی اے اے اور این آر سی کے خلاف احتجاج کے دوران بھڑکنے والے تشدد میں 53 افراد ہلاک ہوئے تھے اور 700 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔ اسی معاملے میں شرجیل امام اور عمر خالد کئی سالوں سے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔

Published: undefined

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined