
دہلی میں 10 اکتوبر کو ہونے والے احتجاجی مظاہرے کے دوران عائد کی گئی پابندیوں کے معاملے میں مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کرکے وضاحت پیش کی ہے۔ مرکز نے عدالت کی ہدایات کو قصداً نظرانداز کرنے کے الزام سے انکار کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ دہلی پولیس کی درخواست پر قانونی نظم و نسق برقرار رکھنے اور ممکنہ بدامنی کو روکنے کے لیے انٹرنیٹ خدمات بند کی گئی تھیں۔ اس کے ساتھ ہی حکومت نے سپریم کورٹ سے غیر مشروط معافی بھی مانگی ہے۔ مرکزی داخلہ سکریٹری گووند موہن کی جانب سے داخل کیے گئے حلف نامے میں حکومت نے اپنا موقف واضح کیا ہے۔ وکیل شیلیندر منی ترپاٹھی نے انٹرنیٹ خدمات بند کرنے اور میٹرو کے درجنوں گیٹ بند کیے جانے کے معاملے میں توہین عدالت کی عرضی دائر کی تھی۔ مرکز نے توہین عدالت کے الزامات خارج کرنے اور سپریم کورٹ کے سابقہ حکم میں ترمیم کرنے کی درخواست بھی کی ہے، تاکہ سیکورٹی کی ضرورت کے پیش نظر انٹرنیٹ خدمات بند کرنے کی اجازت مل سکے۔
دہلی میں یہ پابندی رائسینا ہل کے 4 کلومیٹر کے دائرے میں 9 اکتوبر کی رات 10 بجے سے 10 اکتوبر کی رات 10 بجے تک نافذ رہی۔ عرضی گزار شیلیندر منی ترپاٹھی نے الزام لگایا ہے کہ جی ٹی بی نگر اور وشو ودھیالیہ میٹرو اسٹیشنوں کے گیٹ بند کرنا، احتجاج سے پہلے عائد کی گئی پابندیوں کے سلسلے میں سپریم کورٹ کے 9 اکتوبر کے حکم کی خلاف ورزی تھی۔ اس عرضی کے جواب میں پولیس کمشنر انوراگ کمار کی جانب سے داخل کیے گئے حلف نامے میں توہین عدالت اور قصداً عدالتی حکم کی تعمیل نہ کرنے کے الزامات سے انکار کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پبلک آرڈر برقرار رکھنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات ضروری تھے، انہیں بروقت نافذ کیا گیا اور یہ قانون کے دائرے میں تھے۔ پولیس نے سپریم کورٹ سے غیر مشروط اور مکمل معافی بھی مانگی ہے۔
در اصل سپریم کورٹ نے راجدھانی دہلی میں احتجاجی مظاہروں کی وجہ سے عائد کی گئی پابندیوں پر 9 اکتوبر کو سخت حکم جاری کیا تھا۔ عدالت نے واضح کہا تھا کہ قانونی نظم و نسق برقرار رکھنے کے کے نام پر میٹرو اور ٹرینوں کو مکمل طور پر بند نہیں کیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ کسی احتجاجی مظاہرے کو سنبھالنے کے لیے پورا شہر ٹھپ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ سی جے آئی جوائے مالیا باگچی اور جج وی موہن کی بنچ نے یہ حکم دیا تھا۔ ساتھ ہی حکم کی خلاف ورزی پر داخلہ سکریٹری، دہلی پولیس کمشنر اور ڈی ایم آر سی صدر کو بھی نوٹس جاری کیا تھا۔ جب مرکز اور پولیس علیحدہ علیحدہ وضاحت پیش کی تھی۔
دہلی میں میٹرو اسٹیشنوں اور سڑکوں کو بند کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو حراست میں لینے کے الزامات سے متعلق توہین عدالت کے معاملے میں دہلی میٹرو ریل کارپوریشن (ڈی ایم آر سی) اور دہلی پولیس نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کیا ہے۔ ڈی ایم آر سی کے چیئرپرسن کی جانب سے داخل کیے گئے حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ ہفتے کے روز 303 میں سے صرف 45 میٹرو اسٹیشنوں پر داخلے اور باہر نکلنے کے راستے بند کیے گئے تھے۔ سبھی اسٹیشنوں پر انٹرچینج کی خدمات جاری رہیں۔ مسافروں کی سہولت کے لیے آس پاس کے میٹرو اسٹیشنوں کو کھلا رکھنے کے اقدامات بھی کیے گئے۔
ڈی ایم آر سی نے تسلیم کیا کہ ہفتے کے روز میٹرو میں مسافروں کی تعداد گھٹ کر 32 لاکھ رہ گئی، جبکہ عام طور پر ہفتے کے روز تقریباً 58 لاکھ مسافر سفر کرتے ہیں۔ حالانکہ کارپوریشن نے مسافروں کی تعداد میں کمی کے لیے احتجاجی مظاہروں کو ذمہ دار قرار دیا۔ حلف نامے کے مطابق مظاہروں کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگوں نے سفر کرنے، اپنے روزمرہ کے کاموں اور ذاتی یا کاروباری سرگرمیوں میں حصہ لینے سے گریز کیا۔ دہلی پولیس نے توہین عدالت کے معاملے میں داخل کیے گئے حلف نامے میں کہا ہے کہ نوٹیفائی کیے گئے ممنوعہ علاقے سے باہر کسی بھی شخص کو پولیس ایکٹ کی دفعہ 65 کے تحت حراست میں نہیں لیا گیا۔ دہلی پولیس نے یہ بھی کہا کہ دفعہ 163 کے تحت ممنوعہ علاقے سے متعلق نوٹیفکیشن میں جنتر منتر تھانے کے دائرۂ اختیار سے باہر کے کئی علاقے بھی شامل ہیں۔ دہلی پولیس کے مطابق بیریکیڈنگ کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور لوگوں کی آمد و رفت کو آسان بنانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
تصویر: کانگریس میڈیا سیل
تصویر: کانگریس میڈیا سیل