
دہلی میں سی پی ایم اور سیٹو تنظیم نے ٹیلی فون پر ایک سروے کیا ہے اور اس سروے سے جو معلومات حاصل ہوئی ہیں اس نے دہلی کی کیجریوال حکومت پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ اس سروے میں سب سے زیادہ چونکانے والی بات یہ ہے کہ 65 فیصد مہاجر مزدوروں کو حکومت کی جانب سے کسی قسم کے کھانے سے متعلق کوئی مدد نہیں ملی ہے۔
سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے جو مہاجر مزدور دہلی میں پھنس گئے ہیں ان کی حالت بہت خراب ہے اور ان کو عام آدمی پارٹی کی حکومت سے کوئی مدد نہیں مل پا رہی ہے۔ 8870 مزدوروں سے اس سروے کے سلسلے میں بات کی گئی اور اس سے پتہ لگا کہ زیادہ تر مزدوروں کے پاس نہ تو راشن کارڈ ہے اور نہ ہی آدھار کارڈ ہے۔ بہت سے مزدوروں کے پاس تو موبائل ریچارج کرانے تک کے پیسے نہیں ہیں۔
سروے سے یہ حققیت بھی سامنے آئی کہ دہلی میں پھنسے زیادہ تر مہاجر مزدور گھر واپس جانا چاہتے ہیں کیونکہ ان کے پاس پسیے ختم ہو چکے ہیں۔ سروے میں حاصل ہوئیں کچھ حقیقتیں مندرجہ ذیل ہیں۔
واضح رہے دہلی کی مہنگی زندگی کی وجہ سے یہاں کے مہاجر مزدوروں کی حالت بہت خراب ہے اور وہ جن حالات میں یہاں رہتے ہیں وہ بہت ہی بدتر ہیں۔ سروے سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کیجریوال حکومت جتنا کہتی ہے اس کا کچھ حصہ بھی زمین پر نظر نہیں آتا۔
سروے سے حاصل کچھ معلومات۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 27 Apr 2020, 2:40 PM IST