قومی خبریں

دہلی ہائی کورٹ میں آئسا کی صدر نہا بورا کی عرضی پر سماعت، پیس بانڈ کا نوٹس منسوخ کرنے کی درخواست

دہلی ہائی کورٹ میں آئسا کی قومی صدر نہا بورا کی عرضی پر سماعت ہوئی۔ انہوں نے پرامن احتجاج میں شرکت کے بعد 10 ہزار روپے کے ذاتی مچلکے اور ضمانتی سے متعلق نوٹس کو چیلنج کیا ہے

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>

فائل تصویر آئی اے این ایس

 

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ میں جمعرات کو آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئسا) کی قومی صدر نہا بورا کی اس عرضی پر سماعت ہوئی، جس میں انہوں نے امن برقرار رکھنے کے لیے 10 ہزار روپے کے ذاتی مچلکے اور ایک ضمانتی پیش کرنے سے متعلق نوٹس کو چیلنج کیا ہے۔ یہ نوٹس 16 اکتوبر کو منعقدہ ’لہرا دو ترنگا‘ احتجاج میں شرکت کے بعد شروع کی گئی کارروائی کے تحت جاری کیا گیا تھا۔

نہا بورا نے خصوصی ایگزیکٹیو مجسٹریٹ کی جانب سے جاری کیے گئے وجہ بتاؤ نوٹس کو عدالت میں چیلنج کیا ہے۔ اس نوٹس میں انہیں امن برقرار رکھنے کے لیے ذاتی مچلکہ اور ایک ضمانتی پیش کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔

نہا بورا کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل شنکرنارائنن نے عدالت میں دلیل دی کہ خصوصی ایگزیکٹیو مجسٹریٹ نے امن برقرار رکھنے کے لیے مچلکہ بھرنے سے متعلق وجہ بتاؤ نوٹس بغیر مناسب غور و فکر اور کسی ٹھوس مواد پر انحصار کیے بغیر جاری کیا۔ ان کے مطابق، مجسٹریٹ نے اس معاملے میں اپنی کوئی واضح رائے بھی ظاہر نہیں کی۔

وکیل نے کہا کہ ان کی موکلہ نے نہ تو تشدد یا بدامنی بھڑکانے کی اپیل کی اور نہ ہی کسی کو مجرمانہ فعل انجام دینے کے لیے اکسایا۔ انہوں نے صرف ایک پرامن احتجاج میں شرکت کی تھی، جو آئین کے تحت حاصل بنیادی حقوق کے دائرے میں آتا ہے۔ انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ نہا بورا کے خلاف جاری کیے گئے وجہ بتاؤ نوٹس کو منسوخ کیا جائے۔

دہلی پولیس کی جانب سے پیش ہونے والے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل (اے ایس جی) چیتن شرما نے اس عرضی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ نوٹس جاری کرنے کے پیچھے ٹھوس اور کافی مواد موجود تھا۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ خصوصی ایگزیکٹیو مجسٹریٹ نے صرف تفتیشی افسر کے بیان پر ہی غور نہیں کیا، بلکہ نہا بورا کے خلاف درج دیگر ایف آئی آر اور جنرل ڈائری (جی ڈی) میں درج اندراجات سمیت دوسرے ریکارڈ کا بھی جائزہ لیا تھا۔ ان کے مطابق، انہی دستاویزات کی بنیاد پر وجہ بتاؤ نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

چیتن شرما نے مزید دلیل دی کہ امن کی خلاف ورزی کو روکنے کے لیے استعمال ہونے والے احتیاطی اختیارات کے معاملے میں خصوصی ایگزیکٹیو مجسٹریٹ کے لیے یہ اطمینان حاصل کرنا ضروری ہے کہ امن و امان میں خلل پڑنے یا عوامی نظم و ضبط بگڑنے کا اندیشہ موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں قانون کے تحت مقررہ طریقہ کار پر عمل کیا گیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔