
تصویر سوشل میڈیا
نئی دہلی: دلت طالبہ نشو آزاد کے والد سنجے کمار پر حملے کے الزام میں مطلوب ’ہندوتوا انفلوئنسر‘ سوتنتر بھاردواج کو دہلی پولیس نے جمعہ کو اتر پردیش کے بلند شہر سے گرفتار کر لیا۔ پولیس کی جانب سے یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب چند گھنٹے قبل اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کو یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ ملزم کو 72 گھنٹوں کے اندر گرفتار کر لیا جائے گا۔
سوتنتر بھاردواج، جو خود کو ’کٹر ہندو‘ قرار دیتا رہا ہے، کی گرفتاری کے لیے پولیس نے کئی ٹیمیں تشکیل دی تھیں۔ اس کی تلاش کے دوران سادہ لباس میں پولیس اہلکاروں کو مختلف مقامات پر تعینات کیا گیا تھا، جبکہ مقامی صحافیوں سے بھی پوچھ گچھ کی گئی۔
پولیس کے مطابق بھاردواج جمعہ کو نیتھلا گاؤں سے موٹر سائیکل پر خورجہ کی جانب نکلا تھا۔ اپنی شناخت چھپانے کے لیے اس نے ہیلمٹ پہن رکھا تھا۔ پولیس نے اس کا تعاقب کرتے ہوئے بلند شہر میں اسے گرفتار کر لیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق وہ نیپال فرار ہونے کی کوشش میں تھا، تاہم پولیس نے اس منصوبے کو ناکام بنا دیا۔
اس معاملے نے اس وقت خاصی توجہ حاصل کی جب بھاردواج کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ ویڈیو میں اسے مبینہ طور پر یہ اعتراف کرتے ہوئے دیکھا گیا کہ احتجاج کے دوران اس نے نشو آزاد کے والد سنجے کمار کے سر پر حملہ کیا تھا اور ’کھوپڑی پھوڑ دی‘ تھی۔ ویڈیو میں وہ یہ بھی دعویٰ کرتا دکھائی دیا کہ اس سنگین الزام کے باوجود وہ جیل جانے سے بچ گیا۔
سنجے کمار پر حملے کا معاملہ دلت طالبہ نشو آزاد سے متعلق احتجاج کے دوران پیش آیا تھا۔ واقعے کے بعد ملزم کی گرفتاری کا مطالبہ تیز ہوگیا تھا اور سیاسی جماعتوں نے بھی پولیس کی کارروائی پر سوال اٹھائے تھے۔
قبل ازیں، طلبہ تحریک کے کارکنوں اور حامیوں نے بھاردواج کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے قومی راجدھانی میں پارلیمنٹ مارگ تھانے کے باہر احتجاج کیا تھا۔ مظاہرین نے ملزم کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا، جس کے بعد پولیس نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ بھاردواج کو 72 گھنٹوں کے اندر گرفتار کر لیا جائے گا۔
پولیس کی جانب سے مقررہ مدت کے اندر گرفتاری عمل میں آنے کے بعد اب معاملے میں مزید قانونی کارروائی کی تیاری کی جا رہی ہے۔ سوتنتر بھاردواج سے حملے اور اس کے بعد فرار ہونے کی کوشش کے حوالے سے پوچھ گچھ کی جائے گی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔